ایرانی پولیس لیاری گینگ وارکے ملزم عزیربلوچ کو مدد فراہم کرتی رہی ،سنسنی خیز انکشاف

کراچی : کراچی کے حالات خراب کرنے میں بھارتی خفیہ ایجنسی'' را ''تو ملوث ہے ہی ہے لیکن اب شہر کے حالات کی خرابی میں ایرانی پولیس کے ملوث ہونے کا سنسنی خیز انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔کراچی کے علاقے ملیر سے گرفتار سابق ڈائریکٹر فشریز جاوید یونس نے گینگ وار میں ایرانی مداخلت سمیت انتہائی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔
جاوید یونس نے رینجرز کی تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ عزیر بلوچ کوسٹل ہائی وے جیوانی کے راستے ایران فرار ہوتا تھا جہاں عزیز بلوچ کو سرحد پر ایرانی پولیس کی گاڑی لینے آتی اور چاہ بہار میں واقع اس کے گھر چھوڑتی تھی۔سابق ڈائریکٹر فشریز نے انکشاف کیا کہ عزیز بلوچ مخالف گروپ کے ارشد پپو کو قتل کر کے اس کی لاش گدھا گاڑی میں رکھ کر گبول پارک لایا۔
عزیر بلوچ کے کہنے پر ہی ملزم نے سابق کونسلر عبدالغنی اور حاجی ابو کو قتل کروا کے لاشیں سمندر میں پھینکوائیں۔جاوید یونس نے مزید بتایا کہ عزیر بلوچ کے کہنے پر بڑی تعداد میں اسلحہ ایک خالی پلاٹ میں چھپایا اور عزیر بلوچ نے سنگولین میں 5 افراد کو ذاتی دشمنی کی بنا پرقتل کروایا۔ گرفتار ملزم نے مزید بتایا کہ ماہانہ 25 لاکھ روپے بھتہ عزیز بلوچ کو دیتا تھا اور عزیر بلوچ کے کہنے پر ہی 150 افراد کو فشریز میں ملازمت بھی دی۔