سینیٹ انتخابات کل ہوں گے، تمام تیاریاں مکمل کر لی گئیں

سینیٹ انتخابات کل ہوں گے، تمام تیاریاں مکمل کر لی گئیں

اسلام آباد: الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لئے انتظامات حتمی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سینیٹرز کے انتخاب کے لیے پولنگ چاروں متعقلہ صوبائی اسمبلیوں میں جبکہ اسلام آباد اور فاٹا کی نشستوں کے لیے پولنگ قومی اسمبلی میں ہو گی۔


سینیٹ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق بھی جاری کر دیا ہے جس کے تحت قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو اسمبلی سیکرٹریٹ کا کارڈ ساتھ لانا ہو گا۔ پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن کے باہر رینجرز اور ایف سی تعینات ہو گی۔ تمام ووٹر ایک ہی راستے سے پولنگ اسٹیشن جائیں گے اور کسی کے لیے کوئی خاص راستہ مختص نہیں ہو گا۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن کی ایک اور اہم وکٹ گرا دی

پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون لانے پر مکمل پابندی ہو گی۔ بیلٹ پیپر اور ووٹ کی رازداری کو یقینی بنانا ہو گا جبکہ بیلٹ پیپر پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے پر مکمل پابندی ہو گی۔ بیلٹ پیپر کو خراب کرنے، جعلی بیلٹ پیپر استعمال کرنے پر کارروائی ہو گی۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ کے دوران ریٹرننگ افسر کو مجسٹریٹ درجہ اول کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے۔ کسی بھی قسم کی بے قاعدگی یا بدنظمی پر آر او انتخابی عمل معطل کر سکے گا۔

ریٹرننگ افسرکو سمری ٹرائل کر کے فوری سزا سنانے کا حق حاصل ہو گا۔ وہ غیر متعلقہ شخص کو بیلٹ پیپر دینے پر فوری سزا سنا سکتا ہے اس کے علاوہ ریٹرننگ افسر کو بیلٹ پیپر منسوخ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور 6 ماہ سے 2 سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن مجاز ہے کہ جرمانہ اور قید کی سزا ایک ساتھ سنا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے ’ناقابل تسخیر‘ ہتھیار تیار کر لیے ہیں، پیوٹن

گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں نہال ہاشمی کی خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ ڈاکٹر اسد اشرف 298 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار زرقا سہروردی تیمور کو صرف 38 ووٹ مل سکے۔

سینیٹرز کی آئینی مدت 6 برس ہے اور ہر 3 برس بعد سینیٹ کے آدھے ارکان اپنی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جاتے ہیں اور آدھے ارکان نئے منتخب ہوکر آتے ہیں۔

اس مرتبہ بھی سینیٹ کی آدھی یعنی 52 نشستوں پر انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ سندھ اور پنجاب سے 12،12 سینیٹرز کا انتخاب ہوگا جب کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے 11، 11 سیینیٹرز منتخب ہوں گے۔ فاٹا سے 4 اور اسلام آباد سے 2 ارکان ایوان بالا کا حصہ بنیں گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں