سائنس دانوں کا چوہوں کے بعد انسانی سر کی منتقلی کا منصوبہ

سائنس دانوں کا چوہوں کے بعد انسانی سر کی منتقلی کا منصوبہ

روم : سائنس دانوں نے دنیا میں چوہوں میں پہلی سر کی منتقلی کے بعد اب دسمبر میں انسانی سر کی منتقلی کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق سی این ایس نیورو سائنس اینڈ تھراپیٹکس جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جراحی میں تین چوہے استعمال کئے گئے جن میں سے ایک ڈونر ، ایک وصول کرنے والا اور ایک خون دینے والا تھا۔


یہ تجربہ اطالوی دماغی جراح سرگیو جاناویریو اور چین کے ہاربین طب یونیورسٹی کے پروفیسر زیوپنگ رین کی طرف سے کیا گیا۔دونوں سائنس دان اس سے قبل بندروں اور بعض دیگر حیوانات میں سر کی منتقلی کر چکے ہیں۔جاناویریو نے کہا ہے کہ دسمبر میں انسانی سر کی منتقلی کا پروگرام ہے اور ان کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ آپریشن ورڈنگ ہوفمین بیماری کے شکار ایک روسی شہری کا کیا جائے گا۔