طارق فاطمی نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا

طارق فاطمی نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کے سابق معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی نے الوداعی خط میں اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کی جانب سے لیک ہونے والے اپنے الوداعی خط میں طارق فاطمی کا کہنا تھا میں خود پر لگائے جانے والے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں یہ الزامات ایک ایسے شخص کے لیے تکلیف کا باعث ہیں جو پانچ دہائیوں سے پاکستان کی خدمت کررہا ہو۔


اس خط میں انہوں نے لکھا اس عرصے میں مجھے قومی سلامتی کے معاملات سے جڑے کئی حساس معاملات کو دیکھنا پڑا جن میں کچھ بہت اہم معلومات سے آگاہی بھی شامل تھی۔ یاد رہے کہ 28 اپریل کو وزیراعظم پاؤس سے جاری ہونے والی ایک دستاویز میں ڈان لیکس سے متعلق انکوائری کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ خارجہ امور سے متعلق معاون خصوصی طارق فاطمی سے واپس عہدہ لے لیا گیا ہے۔

ان کے علاوہ وزارت اطلاعات و نشریات کے پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین کے خلاف 1973 کے آئین کے ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈی) رولز کے تحت کارروائی کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد ان سے بھی یہ عہدہ واپس لیا جا چکا ہے۔

اس حکومتی فیصلے کے خلاف پاکستانی فوج کی جانب سے سخت ردعمل آیا تھا اور پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'ڈان لیکس کے حوالے سے جاری کیا گیا اعلان انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے۔ یہ نوٹیفیکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔

طارق فاطمی کو جون 2013 میں وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے خارجہ امور تعینات کیا گیا تھا۔ وہ ماضی میں امریکہ، اردن، بیلجیئم، لکزمبرگ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تعینات رہ چکے ہیں۔ 2004 میں ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے پاکستان مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں