اسرائیل فلسطین تنازع: حماس نے نئی تاریخی پالیسی کا اعلان کر دیا

اسرائیل فلسطین تنازع: حماس نے نئی تاریخی پالیسی کا اعلان کر دیا

رملہ :فلسطینی تنظیم حماس نے ایک نئی پالیسی دستاویز جاری کی ہے۔ تنظیم کا چارٹر جاری ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حماس نے اپنی پالیسی کا تحریری اعلان کیا ہے۔اس دستاویز میں حماس نے پہلی بار 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک عبوری فلسطینی ریاست کے قیام پر رضا مندی ظاہر کی ہے مگر اس میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا گیا۔پالیسی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ حماس کی جدوجہد یہودیوں کے خلاف نہیں بلکہ 'قابض صیہونی جارحیت پسندوں' کے خلاف ہے۔


1988 میں جاری کیے گئے حماس کے چارٹر کو یہودی مخالف خیالات پر مبنی ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔غزہ کی پٹی میں برسراقتدار حماس کی اس پالیسی کے اعلان کو تنظیم کی جانب سے اپنی حمایت میں اضافے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔حماس کے ترجمان فوزی برہون کا کہنا ہے کہ اس دستاویز سے انھیں بیرونی دنیا سے منسلک ہونے کا موقع ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ حماس بنیاد پرست نہیں ہے۔ ہم حقیقت پسند اور مہذہب ہیں۔

ہم یہودیوں سے نقرت نہیں کرتے۔ ہم صرف ان سے لڑتے ہیں جو ہماری زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں اور ہمارے لوگوں کو مارتے ہیں۔حماس کے مطابق یہ نئی دستاویز ان کے چارٹر کا نعم البدل نہیں ہے لیکن اس پالیسی دستاویز کے تحت وہ 1967 میں قائم کیے جانے والی سرحد کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطین کی آزادی کے خواہشمند ہیں۔ اس سے پہلے حماس نے کبھی بھی سرحدوں کے معاملے پر لچک نہیں دکھائی تھی۔