اسحاق ڈار ضمنی ریفرنس، گواہ شیر دل کا بیان قلمبند کر لیا گیا

اسحاق ڈار ضمنی ریفرنس، گواہ شیر دل کا بیان قلمبند کر لیا گیا
اسحاق ڈار ضمنی ریفرنس میں گواہ شیر دل خان کا بیان قلمبند ہو گیا جبکہ دوسرے گواہ نہیں ہو سکا۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: اسحاق ڈاراور شریک ملزمان کیخلاف نیب ضمنی ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ شیر دل خان کا بیان قلمبند ہو گیا جبکہ دوسرے گواہ محمد عظیم کا بیان ریکارڈ نہیں ہو سکا۔


اسلام آباد کی احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کے خلاف نیب کے ضمنی ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی ۔ دوران سماعت تینوں نامزد ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت میں استغاثہ کے گواہ شیردل خان نے بیان قلمبند کرواتے ہوئے بتایا کہ 1993 سے 1996 تک اسحاق ڈار کو تنخواہ اور الاؤنسز کی مد میں 7 لاکھ 26 ہزار 640 روپے ادا کیے گئے۔ اس موقع پر دوسرے گواہ محمد عظیم کا بیان ریکارڈ نہیں ہو سکا۔

مزید پڑھیں: فاروق ستار آج بہادر آباد کے رہنماؤں کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کا اعلان کریں گے

شیر دل خان نے عدالت کو بتایا کہ مجھے نیب لاہور نے سمن کیا تھا ۔ 22 اگست کو نیب لاہور میں تفتیشی افسر کے روبرو پیش ہوا۔ نیب نے مجھ سے اسحاق ڈار کے سیلری اور الاونسز سے متعلق ریکارڈ طلب کیا تھا۔

شیر دل خان نے عدالت کو بتایا کہ میں نے 1993 سے 1996 تک جب اسحاق ڈار ایم این اے تھے کا ریکارڈ پیش کیا۔ ایک کورنگ لیٹر کے ساتھ ریکارڈ نیب کو پیش کیا۔ شیر دل خان پر وکیل صفائی قاضی مصباح نے جرح کے دوران پوچھا کہ اسحاق ڈار کو کی گئی ادائیگی کا ریکارڈ آپ نے کس کو پیش کیا۔

جس پر گواہ نے بتایا کہ میں نے دستاویزات تفتیشی افسر کو جمع کرائیں ۔ سیلری اور الاؤنسز سے متعلق بنایا گیا ٹیبل چارٹ تفتیشی افسر کو پیش نہیں کیا۔ وصول کی گئی دستاویزات پر بینیفشری کے دستخط موجود تھے۔ وکیل صفائی کی جانب سے پوچھا گیا کہ الاونسز میں کیا کیا چیز شامل تھی۔ گواہ شیر دل خان نے بتایا کہ الاؤنسز میں ٹی اے ڈی اے شامل تھے۔

قاضی مصباح نے گواہ سے استفسار کیا کہ جتنا عرصہ اسحاق ڈار وفاقی وزیر رہے وہ ریکارڈ یا الاؤنسز آپ کی رپورٹ میں شامل تھے جس پر گواہ نے بتایا میں نے صرف وہ ریکارڈ پیش کیا جب اسحاق ڈار ایم این اے تھے۔ جس پر وکیل صفائی نے پوچھا کہ وزراء کی تنخواہوں کے معاملات کون دیکھتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ یہ متعلقہ وزارت ہی بتا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافے کی مخالفت کر دی

وکیل صفائی کی جانب سے وزیر کی تنخواہ کے بارے میں پوچھے جانے پر گواہ شیر دل خان نے کہا کہ یہ مجھے معلوم نہیں البتہ ایم این اے سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔ وزراء اور ایم این اے کے ٹی اے ڈی اے الگ الگ ہوتے ہیں۔

قاضی مصباح کی گواہ شیر دل خان پر جرح مکمل ہو گئی ۔ سعید احمد کے وکیل حشمت حبیب کی جرح آج نہ ہو سکی۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 9 مئی تک ملتوی کر دی گئی اب 9 مئی کو گواہ محمد عظیم پر وکیل صفائی جرح کریں گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں