تنگ نظر بھارتی حکومت نے علی گڑھ یونیورسٹی میں آویزاں قائداعظم کی تصویر ہٹا دی

تنگ نظر بھارتی حکومت نے علی گڑھ یونیورسٹی میں آویزاں قائداعظم کی تصویر ہٹا دی
فوٹو بشکریہ :ایچ ڈبلیو نیوز ڈاٹ انڈیا

علی گڑھ :سیکولر بھارت کا چہرہ تنگ نظر مودی سرکار نے داغدار کردیا علی گڑھ مسلم  یونیورسٹی میں آویزاں قائداعظم کی تصویر پر اعتراض لگا دیا۔


تفصیلات کے مطابق بی جے پی رہنما ستیش کمار نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خط لکھا کہ قائدِاعظم محمد علی جناح کی تصویر یونیورسٹی میں کیوں لگائی اسے ہٹا دیا جائے ،بی جے پی رہنما کی تنگ نظری کا جواب یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ دیا کہ قائداعظم کو 1938 میں علی گڑھ یونیورسٹی کی اعزازی رکنیت ملی ۔تب ہی دیگر رہنماؤں کے ساتھ ان کی تصویر بھی لگادی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں :بی جے پی کا ممبئی میں واقع قائداعظم کی رہائش گاہ" جناح ہاؤس " کو گرانے کا مطالبہ

  

وضاحت کے باجود بی جے پی رہنما ستیش کمار مطمئن نہ ہوا اور راتوں رات قائداعظم کی تصویر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہٹا دی گئی ۔یونیورسٹی انتظامیہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹادی ۔ وضاحت یہ کی کہ صفائی کی غرض سے تصویر ہٹائی گئی ہے ۔اس حوالے سے اب بھارتی نیوز چینل ٹائمز ناؤ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ قائداعظم کی تصویر یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ یونین آفس سے غائب ہوگئی ہے۔تاہم اس حوالے سے اب تک کچھ سامنے نہیں آیا کہ یہ تصویر کس نے ہٹائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مریم نواز کی جمع کرائی گئی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ثابت ہوئی، تفتیشی افسر کا بیان

  

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ترجمان شافع کدوائی کا کہنا ہے کہ یہ  روایت ہے کہ تمام لائف ممبرز کی تصاویر اسٹوڈنٹ یونین آفس میں لگائی جاتی ہیں اور جناح کو بھی یونیورسٹی کی تاحیات رکنیت دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی ) کے ایک اہم رکن منگل پرابھات لودھا نے مطالبہ کیا تھا کہ ممبئی میں واقع محمد علی جناح کی ملکیتی رہائش گاہ کو منہدم کیا جائے اور اس کی جگہ ایک کلچرل سینٹر  تعمیر کیا جائے ۔منگل پرابھات کا کہنا تھا کہ اس عمارت کو دیکھ کر تقسیم کی یاد آتی ہے۔