دنیا کے 90 فیصد انسان آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور

دنیا کے 90 فیصد انسان آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور
image by facebook

نیویارک :عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی حصوں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک زیادہ ہے اور 90 فیصد انسان آلودہ فضا میں سانس لے رہے ہیں۔


فضائی آلودگی کی سطح سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے سالانہ تقریباً 70 لاکھ افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آلودہ فضا میں موجود باریک ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں اور کارڈیوویسکیولر نظام میں پہنچ کر فالج، دل کی بیماریوں، پھیپھڑوں کا کینسر اور سانس لینے میں دشواری سمیت مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

سال 2016 میں صرف بیرونی فضائی آلودگی سے 42 افراد کی موت واقع ہوئی، جبکہ گھروں میں کھانا پکانے کے لیے ایندھن اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیدا ہونے والی آلودگی کی وجہ سے اسی عرصے میں تقریباً 38 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی یعنی تقریباً 3 ارب افراد کو اب بھی اپنے گھروں میں کھانے پکانے کے لیے صاف ایندھن اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ڈبلو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا کہ فضائی آلودگی ہم سب کے لیے خطرہ ہے لیکن غریب عوام کو اس سے زیادہ نقصان ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ 3 ارب سے زائد انسان، جن میں سے بیشتر خواتین اور بچے ہیں ، گھروں میں آلودگی پیدا کرنے والے چولہوں اور ایندھن کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والا زہریلا دھواں سانس کے ساتھ اپنے اندر کھینچ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم نے فضائی آلودگی کے حوالے سے ہنگامی اقدام نہیں اٹھایا تو ہم پائیدار ترقی حاصل کرنے کے خواب کے قریب بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔