دعوت اسلامی کو یونیورسٹی کے لیے زمین دینا مذہبی شدت پسندی میں اضافہ قرار

 دعوت اسلامی کو یونیورسٹی کے لیے زمین دینا مذہبی شدت پسندی میں اضافہ قرار
image by facebook

کراچی :پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تبلیغی جماعت دعوت اسلامی کو یونیورسٹی کے لیے زمین دینے کے فیصلے کی سندھی دانشوروں کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے اور اس فیصلے کو ’مذہبی شدت پسندی میں مزید اضافے‘ کا سبب قرار دیا جارہا ہے۔


حکومت سندھ پر حالیہ تنقید وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ایک خط کی بنیاد پر کی گئی ہے جس میں دعوت اسلامی کی جانب سے دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کے لیے 150 ایکڑ زمین وقف کرنے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰٰ نے سندھ میں سرکاری زمینوں کے معاملات کے نگراں محکمے لینڈ ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ قوانین اور پالیسی کے مطابق اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ ہدایت مجلس رابطہ دعوت اسلامی کی جانب سے تحریر کیے گئے خط کے جواب میں جاری کی ہیں۔

فیس بک پر اس فیصلے کی مخالفت کرنے والوں میں سینٹر فار پیس اینڈ سوسائٹی کے ڈائریکٹر اور سندھی زبان کے ادیب جامی چانڈیو پیش پیش ہیں۔

 جامی چانڈیو کا کہنا تھا کہ ’21 ویں صدی میں ہمیں تعلیم کے جدید ادارے چاہییں نہ کہ مذہبی جماعتوں کے مدارس’حکومت کو تو یہ چاہیے کہ آج کے دور کے جو تقاصے ہیں اس کے تحت سائنس، ٹیکنالوجی اور لبرل آرٹس کے ادارے بنائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سندھ میں جو مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی لہر ہے، اس کا ایک بڑا ذریعہ یہ مدارس ہیں ، ان مدارس کی نہ تو آڈٹ ہوتا ہے نہ نگرانی، مذہب کے نام پر آپ جو کرنا چاہیں، بے لگام ہیں۔

جامی چانڈیو کا کہنا تھا کہ ایک معاشرہ جو پہلے ہی شدت پسندی اور فرقہ واریت کا شکار ہے ، اس میں اگر حکومت یہ کام کرنے لگے گی اور مخصوص مذہبی جماعتوں یا ٹرسٹ کو زمین الاٹ کرے گی تو سندھ یا پورے ملک میں سینکڑوں تنظیمیں اور فرقے یہی مطالبہ کریں گے۔

فیس بک پر جاری بحث میں مسعود جمال نامی شخص کا کہنا ہے کہ آج بریلوی کو تو کل دیوبندیوں کو اس مقصد کے لیے زمین دیں گے، ایک اور صارف شبنم عبداللہ کہتی ہیں کہ بہت ہوگیا، مجھے سندھ میں بنیاد پرستی میں اضٰافہ ہوتے ہوئے نظر آرہا ہے۔

سماجی ویب سائٹس پر بحث میں بلاول بھٹو زرداری کے اختیارات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں ، سلیم منگی نے سوال کیا ہے کہ کس آئین و قانون کے تحت بلاول بھٹو کو یہ اختیار ہے کہ زمین دیں؟

مصطفیٰ تالپور لکھتے ہیں کہ یہ معاملات وزیر اعلیٰ کی جانب سے نہیں اٹھائے گئے، لگتا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت کی نظر کراچی میں ’سبز ووٹ‘ پر ہے ، دعوت اسلامی کا قیام 1980 کی دہائی میں عمل میں آیا تھا۔

دعوت اسلامی کی جانب سے خود کو غیر سیاسی قرار دیا گیا ہے جبکہ اس کی بنیاد رکھنے والوں میں جمعیت علما پاکستان کے مرحوم سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی بھی شامل تھے جبکہ لبیک یارسول اللہ تحریک کی جانب سے سوشل میڈیا پر خادم حسین رضوی کے ساتھ دعوت اسلامی کے سربراہ الیاس قادری عرف باپو کی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی میں دیوبند مسلک کی جانب سے بھی جامعہ تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ،  جامعہ بنوریہ العالمیہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے شکوہ کیا تھا کہ انھوں نے جامعہ کے قیام کے لیے ایک درخواست دے رکھی ہے لیکن حکومت اس کو منظور نہیں کر رہی۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے دسمبر 2016 میں فیضان مدینہ کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے انتظامیہ کو یونیورسٹی کے قیام کا مشورہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کو معاونت کی ہدایت کی تھی ، حکومت سندھ اور بلاول بھٹو کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا اور خاص طور پر فیس بک پر تنقید کی جارہی ہے۔

نامور کارٹونسٹ صابر نذر نے ایک کارٹون میں بلاول بھٹو کو سبز دستار پہنے ہوئے دکھایا ہے ،  یاد رہے کہ دعوت اسلامی کے کارکن اپنی شناخت کے طور پر سبز دستار پہنتے ہیں۔