اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف لندن سے وطن واپس پہنچ گئے اور وہ اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں موجود ہیں۔نواز شریف کے طیارے نے اسلام آباد کے بے نظیر ایئرپورٹ پر لینڈ کیا اور اس موقع پر ایئرپورٹ پر سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور آصف کرمانی سمیت لیگی رہنماؤں کی جانب سے نواز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

سابق وزیراعظم نے ایئر پورٹ کے راول لاؤنج میں مختصر قیام کیا جہاں انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی اور پھر گاڑیوں کے قافلے میں ایئر پورٹ سے روانہ ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل نیب پنڈی ناصر اقبال نے نیب کی 10 رکنی ٹیم کو اسلام آباد ایئرپورٹ جانے سے روک دیا اور نیب اہلکاروں کو پنجاب ہاؤس میں نوازشریف کے سمن کی تعمیل کی ہدایت کی۔ قومی احتساب بیورو کی پانچ رکنی ٹیم پنجاب ہاﺅس پہنچی اور عدالتی سمن کی تعمیل کرائی طارق فضل چودھری سے بھی ضمانتی مچلکوں کے کاغذات پر دستخط لئے گئے۔

پنجاب ہاﺅس میں نواز شریف سے پارٹی رہنماﺅں کی میل ملاقات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک غیر رسمی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا وہ جھوٹے مقدمات سے گھبرانے والے نہیں اور مقدمات کا سامنا کرنے کیلئے ہی دوبارہ پاکستان آئے ہیں۔ نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تصادم کی راہ اختیار نہیں کی عوام 2018 میں ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔

پنجاب ہاؤس پہنچنے پر کارکنان اور پارٹی رہنماؤں نے میاں نوازشریف کا استقبال کیا۔ سابق وزیراعظم سے پنجاب ہاؤس میں گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے ملاقات کی جب کہ ملاقات میں پرویز رشید، سعد رفیق، زاہد حامد، انوشہ رحمان بھی موجود تھیں۔

روانگی سے قبل لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا تھا پاکستان کے نظام میں تضادات ہیں اور ایک سکینڈ میں وزیراعظم کو اٹھا کر ہائی جیکر بنا دیتے ہیں۔ نواز شریف نے سوال کیا کہ وہ ہر دس سال کے بعد کیوں ملک چھوڑیں آخر انہوں نے کیا کیا ہے؟۔

نواز شریف نے نیب کے ریفرنس کو بوگس اور جھوٹا کیس قرار دے دیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا اور کہتے ہیں سمجھ نہیں آتی سب ہو کیا رہا ہے اب پاکستان میں سب کچھ بدلنا چاہیے۔

 

واضح رہے کہ نواز شریف 5 اکتوبر کو اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے پی آئی اے کی پرواز پی کے 757 کے ذریعے لندن روانہ ہوئے تھے۔ قبل ازیں وہ 2 اکتوبر کو قومی احتساب بیورو کی جانب سے اپنے خلاف دائر ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت میں دوسری بار پیش ہوئے تاہم ان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے رواں برس 28 جولائی کو پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا تھا جبکہ نیب کو شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں