اسحاق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ برقرار

اسلام آباد: احتساب عدالت نے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔ وزیر خزانہ اور ان کے وکیل خواجہ حارث آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور خواجہ حارث کی معاون وکیل عائشہ حامد عدالت میں پیش ہوئیں۔

نیب کی پراسیکیوشن ٹیم اور کیس کے 4 گواہان عدالت میں موجود تھے۔ کیس کے کل 28 گواہان میں سے اب تک صرف 3 پر ہی جرح ہو سکی ہے۔ عائشہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار اور خواجہ حارث لندن میں موجود ہیں۔ اسحاق ڈار کی وکیل نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست اور ان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا۔

وزیر خزانہ کے ضامن نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار لندن میں زیر علاج ہیں جس پر عدالت نے انہیں ہدایت دی کہ وہ یہ بیان تحریری طور پر جمع کرائیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے اسحاق ڈار کی درخواست اور میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی۔ عدالت نے اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ  کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد میں سناتے ہوئے نیب کی جانب سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی استدعا مسترد کی اور اسحاق ڈار کی بھی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انجیو پلاسٹی ہونی ہے یا اوپن ہارٹ سرجری یہ ٹیسٹ کے بعد پتا چلے گا۔ کل تشخیصی ٹیسٹ کے بعد معلوم ہو گا کہ اسحاق ڈار کب واپس آ سکتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 نومبر تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے احتساب عدالت نے گزشتہ سماعت میں پیش نہ ہونے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جب کہ عدالت نے آج ان کے دونوں صاحبزادوں کو بھی طلب کیا تھا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں