اسامہ کے بیٹے حمزہ بن لاد ن ی شادی ایران میں ہوئی ، تصاویر اور ویڈیو جاری

واشنگٹن: سی آئی اے کی طرف سے اسامہ بن لادن کی جاری کردہ دستاویزات میں حمزہ بن لادن کی تصاویر بھی شامل ہیں، حمزہ بن لادن کی شادی پاکستان یا افغانستان میں نہیں بلکہ ایران میں انجام پائی تھی۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے’ سی آئی اے‘ نے بدھ کو اسامہ بن لادن کے قتل کے وقت ان کے ایبٹ آباد میں قائم مبینہ ٹھکانے سے لی گئی دستاویزات شائع کی ہیں۔ یہ دستاویزات 2011ءکو ایبٹ آباد میں امریکا کے رات کی تاریکی میں کیے گئے حملے میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے وقت قبضے میں لی گئی تھی۔

تازہ دستاویزات میں تحریری مواد کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں۔ ایک ویڈیو میں بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی شادی کی سادہ تقریب بھی شامل ہے۔ شادی کی کچھ تصاویر بھی ہیں۔ قرین قیاس یہ ہے کہ حمزہ بن لادن کی شادی پاکستان یا افغانستان میں نہیں بلکہ ایران میں انجام پائی تھی۔

امریکی ’سی آئی اے‘ چیف مائیک پومپے کا کہنا ہے کہ نئی دستاویزات نشر کرنے سے امریکیوں کو القاعدہ کے منصوبوں اور دہشت گرد تنظیم کے طریقہ واردات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا ہے کہ تازہ نشر کی گئی دستاویزات میں حمزہ بن لادن کی شادی کی تقریب کی ویڈیو بھی شامل ہے۔ عالمی رائے عامہ اور امریکیوں کا خیال ہے کہ یہ تقریب ایران میں منعقد کی گئی تھی۔
ایک بیان میں ’سی آئی اے‘ نے واضح کیا ہے کہ بہت سا مواد قومی سلامتی کو نقصان پہنچنے کے خطرے کے پیش نظر شائع نہیں کیا جائے گا۔ قبضے میں لی گئی دستاویزات میں فالتو مواد بھی شامل ہے جسے شائع یا نشر کرنے کی ضرورت نہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں فحش مواد بھی شامل ہے۔ بعض چیزوں کی اشاعت پر قانونی پابندی عاید ہے۔ ان میں 20 تصویری ویڈیوز، انٹز‘ اور ‘کارز‘ کارٹون فلمیں، فائنل فانٹازی
7 گیم اور فلم ’ویئر ان دا ورلڈ از اسامہ بن لادن اور بن لادن کے بارے میں دو دستاویزی فلیمیں بھی شامل ہیں جن ہیں نشر نہیں کیا جائے گا۔
بن لادن کی ذاتی ڈائری سمیت 18 ہزار دستاویزی فائلیں، 79 ہزار صوتی یا تصویری اور 10 ہزار ویڈیوز فائلیں موجود ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی انٹیلی جنس حکام نے مئی 2011ءکو ایبٹ آباد میں بن لادن کے مبینہ ٹھکانے سے 4 لاکھ 70 ہزار دستاویزات قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔امریکی حکام کی طرف سے بن لادن کی دستاویزات کی شائع کی جانے والی یہ چوتھی قسط ہے۔ سی آئی اے نے مئی 2015ءکے بعد بن لادن کے ٹھکانے سے حاصل کی گئی دستاویزات مرحلہ وار شائع کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔