قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر احتجاج، عوام کو ریلیف کا مطالبہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر احتجاج کیا اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

جمعرات کو سید نوید قمر نے ذاتی وضاحت پر کہا کہ ہمارے دور حکومت میں فی بیرل قیمتیں 149 ڈالر تک چلی گئی تھیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے پر ملک میں بھی تیل کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تاہم جب بین الاقوامی منڈ یوں میں قیمتیں کم ہو جاتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام کو نہیں دیا جاتا۔ حکومت کو ریونیو میں اضافے کے لئے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے دیگر ذرائع سے ریونیو جمع کرانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر اضافی بوجھ ہے‘ اوگرا کی خودمختاری ایک الگ معاملہ ہے‘ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ریلیف فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ گیس پر سرچارج میں اضافے سے صنعتوں کو نقصان ہو رہا ہے۔

جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور کرایوں کی مد میں عوام پر بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر سے لے کر اب تک تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

مصنف کے بارے میں