خواجہ آصف نے ایک بار پھر امریکا کوخوب سنا ڈالیں.. کیا کہا ؟ آپ بھی پڑھ کر حیران رہ جائیں گے

امریکی کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اورہیں ، ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا: خواجہ آصف
اسلام آباد: وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جنگ مسلط کرنے کی پالیسی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ،امریکی حکام اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ا مریکہ نے افغانستان میں اپنے زیر تسلط علاقے کھوئے، سپاہیوں کی لاشیں اٹھائیں، اپنا سرمایہ ڈبویا اور ناکامی کا سامنا کیا ، واشنگٹن اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ،پاکستانی قوم اور افواج نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑی وہ دنیا کی کوئی بھی فوج نہیں لڑ سکتی ۔
انکا کہنا تھا کہ امریکی حکام سے بہت اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی ، واشنگٹن میں امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل میک ماسٹر نے ملاقات کے لئے آتے ہی کہا کہ ہم آپ پر اعتبار نہیں کرسکتے ، آپ جو بات کہتے ہیں اسے پورا نہیں کرتے۔میں نیا نیا وزیر خارجہ بنا تھا اور مجھے سفارتی آداب کا علم نہیں تھا ، میں سیالکوٹ سے تعلق رکھتا ہوں ، اسی لئے میں نے امریکی جنرل کو فوری جواب دیا کہ ہم بھی آپ پر اعتماد نہیں کرسکتے ، آپ بھی تو کہتے کچھ اور ہیں کرتے کچھ اور ہیںجس کے بعدوہ اٹھ کر چلے گئے۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ سے اب اس قسم کی بات نہیں سنے گا،ہم پورے قد کے ساتھ جواب دیں گے، ہم دوسری اقوام کا احترام کرتے ہیں ہمارا احترام بھی کیا جائے، ہماری افواج نے جو جنگ لڑی دنیا کی کوئی بھی فوج ایسی جنگ نہیں لڑ سکتی۔انھوں نے کہا امریکی حکام کہتے ہیں کہ بھارت پاکستان پر نظر رکھے گا ،جب ہم کسی کو چھیڑ چھاڑ تو نہیں کر رہے تو بھارت کو کیوں چوکیداری دی جا رہی ہے۔امریکی وزیر خارجہ افغانستان آتے ہیں اور بگرام کے ائر بیس پر افغان صدر کو بلا کر ملاقات کرتے ہیں اور اشرف غنی اس تصویر کو فوٹو شاپ کرکے اپنی سبکی مٹانے کی کوشش کرتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا بالکل نہیں ہوا، امریکی وزیر خارجہ کو معمول کے مطابق پروٹوکول دیا۔