سپین میں کاتالونیہ نے الگ ریاست بننے کا ریفرنڈم حاصل کر لیا

سپین میں کاتالونیہ نے الگ ریاست بننے کا ریفرنڈم حاصل کر لیا

کاتالونیہ:وہ ملک جس پر مسلمان سات سو سال حکومت کرتے رہے بلاآخر ٹوٹ گیا،سپین میں کاتالونیہ نے اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم الگ ریاست بننے کا فیصلہ کر لیا ۔ اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم کے دوران تشدد میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔کاتالونیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والی پولنگ میں 90 فیصد ووٹرز نے آزادی کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔


ووٹرز ٹرن آوٹ 42.3 فیصد رہا تھا۔کارلس پوئیمونٹ کا کہنا ہے کہ آزادی کے یکطرفہ اعلان کا دروازہ کھل گیا ہے۔خیال رہے کہ سپین کی مرکزی حکومت نے اس ریفرینڈم روکنے کا عہد کیا تھا اور ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت نے بھی غیر قانونی قرارد دیا تھا۔پولیس نے ووٹروں کو بارسلونا کے کچھ پولنگ سٹیشنوں میں داخلے سے روک دیا اور علاقائی دارالحکومت بارسیلونا میں پولیس نے علیحدگی پسند مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔

اس سے قبل سپین کے وزیراعظم نے مارئانو راجوئے نے کہا تھا کہ کاتالونیہ کے لوگوں کو بیوقوف بنا کر ایک غیر قانونی ووٹ میں شریک کروایا گیا۔ انھوں نے اسے جمہوریت کا مذاق اڑانا قرار دیا۔یہ ریفرینڈم کیوں کروایا جا رہا ہے؟.

کاتالونیہ سپین کا شمال مشرقی قدرے مالدار علاقہ ہے اور اس کی زبان اور ثقافت باقی ملک سے مختلف ہے۔ اس کی آبادی 75 لاکھ ہے۔کاتالونیہ کو کافی حد تک خود مختاری حاصل ہے تاہم سپین کے آئین کے مطابق یہ علیحدہ ملک نہیں ہے۔

کاتالونیہ کے حکام نے ووٹرز کو پولنگ کے آغاز سے قبل ہی پیغام دے دیا تھا کہ وہ اپنے متعلقہ پولنگ سٹیشنز کے بند ہونے کی صورت میں کسی بھی دوسری جگہ پرموجود پولنگ سٹیشن پر جاسکتے ہیں