مکہ مکرمہ کرین حادثے کے تمام ملزمان بری

مکہ مکرمہ کرین حادثے کے تمام ملزمان بری

 ریاض: مکہ مکرمہ میں فوجداری کی عدالت نے حرم کرین کے تمام 13 ملزمان کو جملہ الزامات سے بری کر دیا ہے۔ کرین حادثے میں 111 حجاج شہید اور 394 زخمی ہوئے تھے۔


عدالت نے اتوار کو ابتدائی فیصلہ جاری کر کے واضح کیا کہ پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے حرم کرین کے ملزمان پر جو فرد جرم عائد کی گئی تھی اس سے تمام ملزمان بری ہیں کوئی بھی کسی بھی الزام ثابت نہیں ہوا۔ پبلک پراسیکیوشن کے نمائندے نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عدالتی فیصلے کی کاپی ملتے ہی ایک ماہ کے اندر اس کے خلاف اپیل کورٹ سے رجوع کیا جائیگا۔

یاد رہے بن لادن کمپنی کے کئی انجینیئرز، عہدیداروں اور ملازمین کو 2015ء میں حرم کرین کے حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے واقعے کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔

حادثے میں کئی اموات اور متعدد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت محکمہ تحقیقات و استغاثہ نے 13 افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور الزامات ایک سے زیادہ تھے۔ سلامتی نظام کی خلاف ورزیوں ، ہلاکتوں کا باعث بننے ، نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سلامتی ضوابط کی خلاف ورزی جیسے الزامات عائد کئے گئے تھے۔

فوجداری کی عدالت نے کئی پیشیوں کے بعد کہا تھا کہ وہ اس مقدمے کی سماعت کی مجاز نہیں تاہم یہ مقدمہ دوبارہ فوجداری کی عدالت بھیج دیا گیا تھا جس پر اس نے اتوار کو نیا ابتدائی فیصلہ جاری کر کے واضح کر دیا کہ تمام ملزمان مبینہ الزامات سے بری ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں