حماقت کے جواب میں حماقت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے، سعد رفیق

حماقت کے جواب میں حماقت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے، سعد رفیق

اسلام آباد: احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا عدالت اعظمی اور جے آئی ٹی میں انصاف ہوتا نظر نہیں آیا اور اب جو ہو رہا ہے وہ بھی آپ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندر نہ جانے دینے پر عدالت کے جج اور مانیٹرنگ جج کو نوٹس لینا چاہیے اور ہمیں امید ہے کہ معزز جج صاحبان نوٹس لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اندر جانے کی کوشش نہیں کی لیکن یہ اوپن کورٹ ہے جہاں وکلا اور میڈیا سمیت متعلقہ افراد کو جانے دیا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چھوڑ دیں کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے آج اوپن کورٹ میں میڈیا اور وکلا کو بھی نہیں جانے دیا گیا۔


انہوں نے کہا کہ ملک بھی چلے گا اور ہم اپنی بات بھی کہتے رہیں گے کیونکہ آزاد میڈیا اور سیاستدانوں کو اپنی بات کہتے رہنا چاہیے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان جنگ لڑ رہا ہے ہمیں اپنی بات بھی کرنی ہے اور اصلاح بھی کرنی ہے لیکن ہم اپنا موقف نہیں بدلیں گے باقی لوگوں کو موقف بدلنا ہو گا کیونکہ ہم صحیح بات کرتے ہیں۔

احسن اقبال کی جانب سے استعفی دیے جانے کے بیان پر خواجہ آصف نے کہا کہ باہر آنا مسئلے کا حل نہیں استعفی دے کر گھر چلے جائیں گے تو بعض طبقوں اور عناصر کی خواہش پوری ہو جائے گی۔ ریلوے کے وزیر کو وزیر داخلہ کا ردعمل پسند نہ آیا اور مشورہ دیا کہ حماقت کے جواب میں حماقت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں