میانمارحکومت نے راکھین میں اسکول دوبارہ کھول دئیے

میانمارحکومت نے راکھین میں اسکول دوبارہ کھول دئیے

ینگون:میانمار کی حکومت نے شورش زدہ ریاست راکھین میں بچوں کے اسکولوں کو کھول دیا ہے۔ مقامی میڈیا نے اس پیشرفت کو تشدد کے خاتمے کی ایک علامت قرار دیا ہے۔ تاہم تشدد کا شکار ہونے والے روہنگیا کی مہاجرت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔


میانمار کی ریاست راکھین میں حالیہ نسلی تشدد کے نتیجے میں بہت زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کے حوالے سے ملکی حکومت نے کہا کہ وہاں حالات مستحکم ہو گئے ہیں اور اس لیے وہاں اسکول کھول دیے گئے ہیں۔میانمار کی حکومت کے مطابق روہنگیا عسکریت پسندوں نے 25 اگست کو ملکی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کیے تھے۔

جس کے بعد ملکی فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاون شروع کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس کریک ڈاون کو روہنگیا مسلمانوں کی ”نسلی تطہیر“ قرار دیا ہے۔ عالمی برداری میانمار پر زور دے رہی ہے کہ روہنگیا کے خلاف جاری کریک ڈاون روک دیا جائے۔ ماونگ ڈا اور بوتھی ڈاونگ نامی علاقوں میں ”استحکام لوٹنے کے بعد“ وہاں اسکول کھول دیے گئے ہیں۔

ْ

راکھین کے ایجوکیشن حکام کے مطابق ان علاقوں کے اسکول تو محفوظ ہیں جہاں بودھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت آباد ہے تاہم سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے باعث ”بنگالی دیہات میں موجود اسکولوں“ کے بارے میں ابھی حکام کو سوچنا ہو گا۔