ذیابیطس سے چند ماہ قبل سامنے آنے والی اہم علامات

ذیابیطس سے چند ماہ قبل سامنے آنے والی اہم علامات

لاہور : ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایک ایسا مرض ہے جسے 'خاموش قاتل' کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا تاہم یہ مرض آپ کو اچانک شکار نہیں بناتا بلکہ جسم میں اس کے پھیلنے میں کافی عرصہ لگتا ہے اور اس سے پہلے کے مرحلے کو پِری ڈائیبیٹس یا ذیابیطس سے قبل کا عارضہ قرار دیا جاتا ہے۔ پری ڈائیبیٹس کو ریورس کرنا ممکن ہے اور اس کی علامات کئی ماہ پہلے نمودار ہونے لگتی ہیں جنہیں جان کر آپ ذیابیطس کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔


بہت زیادہ پیاس

ذیابیطس ہو یا اس سے قبل کا عارضہ بہت زیادہ پیاس لگنا بہت عام علامت ہے جو کہ خون میں شوگر کی سطح بڑھنے کا ردعمل ہے۔ ایسا ہونے پر جسم مواد کو پیشاب کے ذریعے زیادہ خارج کرتا ہے یعنی ٹوائلٹ کے چکر زیادہ لگتے ہیں جس سے جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوتا ہے اور پیاس لگنے لگتی ہے اور پانی پینے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔

خراشیں یا زخم ٹھیک نہ ہونا

ہائی بلڈ شوگر دوران خون کی گردش سست کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں خراشوں یا چوٹ کو ٹھیک ہونے میں معمول سے زیادہ وقت لگنے لگتا ہے۔ ایسا ہونے پر بیکٹریا اور دیگر نقصان دہ عوامل کی نشوونما زیادہ ہوتی ہے۔

نظر دھندلانا

اچانک نظر کا دھندلانا درحقیقت بلڈ شوگر کی سطح میں اضافے اور کمی کا نتیجہ ہوتا ہے جو کہ پری ڈائیبیٹس کی عام علامت ہے۔ ایسا ہونے سے آنکھ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور کئی بار منظر اچانک دھندلا نظر آنے لگتا ہے۔ شوگر لیول نارمل ہونے پر یہ شکایت ختم ہو جاتی ہے۔

اچانک اور بلاوجہ وزن میں کمی یا اضافہ

جب جسمانی توانائی کم ہوتی ہے تو یہ دیگر چیزوں کو ایندھن کے لیے جلانے لگتا ہے جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔ چاہے آپ ورزش یا ڈائٹنگ نہ کرتے ہوں۔ دوسری جانب انسولین کی مزاحمت بھوک کو بڑھا دیتی ہے جس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے۔

جلد کے حصوں کی رنگت گہری ہونا

انسولین کی سطح میں اضافہ ایک ایسے عارضے کا باعث بنتا ہے جس سے جلد کی رنگت بدل جاتی ہے۔ جیسے گردن کے پچھلے حصے، بغلوں یا کہنیوں کی رنگت معمول سے زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔

شدید تھکاوٹ

جسم بلڈ شوگر کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ پری ڈائیبیٹس میں انسولین کی مزاحمت بڑھنے لگتی ہے جس کے نتیجے میں جسم موثر طریقے سے گلوکوز کو توانائی میں بدلنے کی صلاحیت سے محروم ہونے لگتا ہے۔ جس سے شدید تھکاوٹ ہونے لگتی ہے جبکہ کئی بار فلو جیسی علامات کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں