افغان طالبان کے بارہ رکنی وفد کی اسلام آباد میں بڑی بیٹھک

 افغان طالبان کے بارہ رکنی وفد کی اسلام آباد میں بڑی بیٹھک

اسلام آباد: افغان طالبان کاایک اعلیٰ سطحی بارہ رکنی وفد جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام کےساتھ افغانستان میں امن عمل کی بحالی اور امن میں پاکستان کے کر دار پر مذاکرات شروع کریگا ،طالبان کا وفد ایسے موقع پر اسلام آباد آرہا ہے جب امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد پہلے سے پاکستان میں موجود ہیں ۔


بدھ کوطالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے دوحہ سے ٹیلیفون پربتایاکہ طالبان کا وفد زلمے خلیل زاد کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کےلئے تیار ہے اگر وہ یہ ملاقات چاہتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ زلمے خلیل زاد سے ملاقات میں طالبان کو کوئی مسئلہ نہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہمارا موقف ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن عمل بحال ہو ناچاہیے کیونکہ افغان مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا ۔

اس سے پہلے سہیل شاہین نے اپنے ٹوئٹر پر بیان میںکہاکہ طالبان کا وفد پاکستان کی باضابطہ دعوت پر اسلام آباد جائیگا اور وہاں پاکستانی حکام سے اہم معاملات پر گفتگو کریگا ۔انہوںنے کہاکہ طالبان نے اس سے پہلے روس ، چین اور ایران کا دورہ بھی کیا تھا تاکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ماہ یکطرفہ طورپر امن عمل روکنے کے بعد کی صورتحال پر ان ممالک کے ساتھ اپنا موقف شیئر کیا جائے ،طالبان وفد کی قیادت سیاسی دفتر کے سربراہ اور سیاسی امور کےلئے طالبان کے سربراہ کے نائب ملا عبد الغنی برادر کرینگے ۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان افغان طالبان پر تشدد کی کمی اور بین الافغانی مذاکرات میں شمولیت پر زور دیگا ۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور وہاں مختلف تقاریبات سے خطاب میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا اور اس سلسلے میں پاکستان کی مدد کا وعدہ بھی کیا تھا ۔ دریں اثناءزلمے خلیل زاد کے وفد میں شامل ایک امریکی اہلکار کا کہناہے کہ زلمے خلیل زاد کے دورے کا مقصد نیویارک میں وزیر اعظم عمران خان کے زلمے خلیل زاد اور دیگر امریکی رہنماﺅں کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھانا ہے ۔