”گھڑی“، ”اگر“اور ”خوبصورت“

Asif Anayat, Daily Nai Baat, e-paper, Pakistan, Lahore

آقا کریمﷺ کی دعا ”اے اللہ پناہ عطا کیجیے ہر بری گھڑی، ہر برے دن، ہر بری رات، نعمتوں کے چھن جانے، عافیتوں کے مڑ جانے، اپنے ناگہانی عذاب اور ہر قسم کے غصے سے“ (مفہوم) قارئین! کو گھڑی سے لگا ہو گا کہ نو دولتیے لوگوں کی کلائی پر باندھی گھڑی کا ذکر ہو گا جس کی نمائش کے لیے وہ قلابازیاں کھاتے پھرتے ہیں کہ کوئی دھیان دے سکے حالانکہ وقت اور تاریخ تو آج کل موبائل فون کی سکرین کے ماتھے پہ موجود ہیں۔ گھڑی سے میری مراد وقت کی وہ گھڑی جو انسان کو ”اگر“ کے گورکھ دھندے میں گھن چکر بنا دیتی ہے۔ یہ ”اگر“ کی بنیاد ”گھڑی“ وہ لمحہ، ساعت، چند سکینڈ جو کائنات کے کاروبار کو چلائے رکھتے ہیں مبارک گھڑی اور نحس گھڑی انسانوں کی پوری پوری زندگیوں بلکہ قوموں، معاشروں حتیٰ کہ کائنات کو اپنی غلامی میں رکھتی ہے۔ تاریخ اسلام کے حوالے سے ان گھڑیوں اور لمحات کا ذکر نہیں کروں گا جنہوں نے امت کو ”اگر“ کیا فرقہ واریت کے خوفناک اور لامتناہی سلسلہ سے دوچار ہی نہیں مبتلا کر دیا۔ دنیا کی پہلی جنگ عظیم سربیا کے شدت پسندوں کے ہاتھوں آسٹریا کے شہزادے آرک ڈیوک فرانز فرڈیننڈ (Archdke Franz Ferdinand) 28 جون 1914ء ہونے والے قتل سے شروع ہوئی۔ اس قتل کی گھڑی ٹل جاتی مقتول اور قاتل کے ملا کھڑے کی گھڑی”اگر“ بدل جاتی تو دنیا جنگ عظیم اول سے دو چار نہ ہوتی انسانوں کی پانچ ہزار سالہ محفوظ تاریخ میں مبارک گھڑی اور نحس گھڑی دیکھنے اور اس کے مطابق کام کرنے کا باقاعدہ رواج رہا۔ تمدن اور تہذیب کا حصہ رہا ہے۔ انسانوں کی زندگی میں اچانک آجانے والی گھڑی جب ”اگر“ کو جنم دیتی ہے تو انسان اس پر نہ جانے کیا کیا تجزیے کرتے ہیں کہ ”اگر“ ایسا نہ ہوتا یعنی وہ گھڑی نہ آتی، جب کہ قرآن عظیم میں ارشاد ہے کہ ”کوئی شخص نہیں جانتا وہ اگلے لمحے ”گھڑی“ کیا نقصان اٹھانے والا ہے یا کیا نفع“۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا”کوئی نہیں جانتا کل کیا ہو گیا“۔ (مفہوم) لمحہ، گھڑی اور ساعت یہ اپنے اندر اتنی قوت رکھتی ہے کہ انسان کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں۔قرآن عظیم میں سورۃ فلق میں ہے کہ ”اے اللہ پناہ مانگتا ہوں حسد کرنے والے سے جب وہ حسد کر رہا ہو“ (مفہوم) اندازہ فرمائیے کہ وہ گھڑی کیا غضب ناک گھڑی ہو گی جب کوئی کسی سے حسد کر رہا ہوتا ہے۔ حضرت علیؓ 

فرماتے ہیں ”اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کوئی کسی سے حسد کر رہا ہے تو میں اس کو گرفتار کر لوں“(مفہوم) گویا حسد سے پناہ الگ بات ہے جبکہ اس ”گھڑی“ سے الگ پناہ مانگنا الگ بات ہے جس وقت کوئی حسد کر رہا ہو۔ الحمد للہ ہمیں اللہ کریم نے جانثار دوستوں سے نوازا لیکن حاسدین بھی جتنے عطا ہوئے اللہ کی پناہ۔ میں نے اگلے روز قدرتی منظر کی ایک پکچر وٹس ایپ گروپ میں شیئر کی جس پر انتہائی جہاں دیدہ، دانشور شائستہ، پرخلوص، بااخلاق، جازب نظر اور قابل تقلید شخصیت دوست نے ”خوبصورت“ کے ریمارکس دیئے ان کاکردار اور شخصیت مدنظر رکھتے ہوئے میں نے جواب میں لکھا کہ ”مدت بعد خوبصورت لفظ پہ اعتبار ہوا“۔ انہوں نے لکھا اعتبار کیوں کھو دیا اور کب؟ میں نے جواب دیا ”کب کھویا تاریخ بھی گواہ ہے اور معاشرت بھی اور ذاتی زندگی بھی“ جو آگہی میں مبتلا ہو وہ بات ضرور کرتا ہے۔ انہوں نے لکھا ”اور کیوں؟“ جس پر میں نے ”اور کیوں؟“ کے ساتھ آگ کے شعلوں کی علامتیں بھیج دیں گویا میرے ذہن میں ”گھڑیوں“ کی ستم ظریفیاں اور ”اگر“ کے گرد گھومتی ہوئی گفتگوؤں، خوبصورتیوں کی کھلتی ہوئی حقیقتوں کے کئی دور گھوم گئے۔ جب دو دل ملتے ہیں تو وہ ایک گھڑی ہی ہوتی ہے اور مقدر نہ ملیں تو پھر ساری زندگی ”اگر“ کے گرد گفتگو گھومتی ہے۔ وطن عزیز کی سیاسی، سماجی، عسکری اور حکمرانی و محکومی کی تاریخ ہی چند ”گھڑیوں“ کے بعد ”اگر“ کے دلدل سے رقم ہے۔ آپ نے بڑے چاؤ سے لوگوں کو ناتے جوڑتے دیکھا پھر قبائل کو بکھرتے ٹوٹتے پھوٹتے دیکھا۔ پنچایتیں بٹھاتے تھانہ کچہری کے چکر لگاتے دیکھا۔ وہ بھی گھڑی ہی ہوتی ہے، میں نے عشق سمندر میں اترتے لوگوں کو دیکھا پھر اس گھڑی کو زندگی کی بربادی کا سبب بنتے دیکھا، کسی کا اچانک مل جانا بھی ایک گھڑی کے مرہون منت ہے۔ 

میں چنگیاں دے لڑ لگی تے میری جھولی پھل پئے 

میں مندیاں دے لڑ لگی تے میرے اگلے وی رڑھ گئے 

والا معاملہ ہے۔ 

یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے 

اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے

جیسے لوگ مزیدار کو جس کا تعلق صرف ذائقے سے ہوتا ہے جہاز، ٹرین کے سفر، تفریح مقام، کار، بستر، صوفہ ہر ایک کو ہی مزے دار کہتے ہیں اسی طرح پسند آنے والی ہر چیز کو خوبصورت ہی کہا جاتا ہے۔ بڑے بڑے خوبصورت لوگوں کے جب کردار دیکھے تو گھن ان کی نسبت خوبصورت لگنے لگی، کوئی ملک، کوئی نظریہ حتیٰ کہ کچھ بھی لے لیں خوبصورت کہہ کر اپناتے ہیں وہ گھڑی اور ہوتی ہے اور اس کے بعد جب واسطہ پڑے تجربہ ہو تو پھر اس سے دگنی رفتار سے نفرت ہوتی ہے۔ بہتر ہوتا اگر دل میں اترنے کی گھڑی اللہ پناہ دے دیتا تو نفرتوں کے قلزم میں اترنا پڑتا اور نہ ہی ”اگر“ کہہ کر فسانے سنانا پڑتے، دنیا کے عظیم واقعات، ناقابل فراموش سانحات، دنیا کی تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دینے والے واقعات ایک ہی گھڑی جب بنتی رہی اور ایک ”اگر“ کو ہمیشہ کے لیے موضوع بحث بنا گئی۔ 

میں اپنے خاندان کا ذاتی صدمہ بیان نہیں کروں گا وہ بھی ایک نحس گھڑی اور پھر ”اگر“ درمیان ہے جس نے مناظربدل کر رکھ دیئے فرد سے لے کر قوم تک، قوم سے کائنات تک ایک گھڑی درکار ہے جو کایا پلٹ ثابت ہوتی ہے تہہ وبالا کر دیا کرتی ہے جن ممالک میں کوئی جاندار نظام نہیں اس میں نہ جانے کس گھڑی کون حاکم مسلط ہو جائے گا اور کس گھڑی کون مجرم قرار پائے،

ایئر فورس سے کسٹم میں آنے والے دوست خرم منیرمیاں جو میرے کولیگ بھی تھے میں ان سے اکثرکہتا کہ میں اگر وکالت ہی کرتا رہتا جو کہ گھر والے چاہتے تھے، نوکری نہ کرتا جو میرا مزاج نہیں تھا،امریکہ میں مجھے جاتے ہی فلاں دوست نہ ملتا تو میرا مستقبل مختلف ہوتا۔ زندگی کے بعض فیصلے نہ ہوتے تو زندگی کچھ اور ہوتی۔ خرم منیر جو انگلش میں بات زیادہ کرتے ہیں مجھے کہتے مسٹر بٹ یہی آپ کی تقدیر تھی اور تقدیر ہے لہٰذا خوش رہا کرو حالانکہ خود بھی پچھتاووں اور ”اگر“ میں پھنسے رہتے تھے۔ انسان محنت کرے، سعی جاری رکھے، مثبت سوچ اور راستہ اختیار کرے۔ 

مالی دا کم پانی دینا بھر بھرمشکاں پاوے

مالک دا کم پھَل پُھل لانا لاوے یا نہ لاوے

والا معاملہ ہے۔گھڑی نجس تھی یا مبارک کوئی خوبصورت تھا کہ بدصورت ”اگر“ نہیں وقت فیصلہ کرتا ہے۔ جس طرح اللہ کی وحدانیت پر ایمان کی اولین شرط ہے۔ اسی طرح ہر اچھی اور بری تقدیر کا مالک اللہ کو ماننا بھی ایمان کی لازمی شرط ہے۔ جب انسان کی زندگی مکمل ہوجایا کرتی ہے تو پھر قلم ٹوٹتا ہے کہ یہ اس کی حقیقی شخصیت اور یہی اس کی تقدیر تھی لہٰذا دعا ہے کہ اللہ کریم ہر بری گھڑے سے پناہ دے کہ ”اگر“ کے لامتناہی سلسلے اور دلدل میں نہ پھنس جائیں۔