پاکستان کا اصل مسئلہ

Humayun Saleem, Daily Nai Baat, e-paper, Pakistan, Lahore

موجودہ حکومت کے نزدیک پاکستان کا اصل مسئلہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین اور پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل ہے  یہی وجہ ہے کہ وزراء سب کام چھوڑ کر ان مسائل پر دن میں دو دو چار چار پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ شاید ان کا خیال ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔ کیونکہ فواد چوہدری سمیت  ہمارے زیادہ تر وزراء کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی نام کی کوئی چیز موجودہی نہیں جس کو وہ بار بار مثالیں دے کر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ گاڑیاں بہت فروخت ہو رہی ہیں اس لئے کہ لوگوں کے پاس پیسہ ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں پٹرول خطے میں سب سے سستا ہے اس موقع پر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں ڈالر خطے میں سب سے مہنگا ہے اور فی کس انکم سب سے کم ہے ۔ حکومت کی صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی کرنے پر شرمندہ ہوتی ہے اور نہ ہی اسے کم کرنے کے لئے اقدامات کرتی ہے۔ہر پندرہ روز بعد پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے اضافہ کرنے  کے بعد بھی وہ اسے اپنی کارکردگی بتاتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے،شائد وہ خیال کئے بیٹھے  ہیں کہ مہنگائی ختم کئے بغیر بھی وہ آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کر لیں گے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ہاتھ میں ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریئے وہ ووٹ حاصل کر لیں گے اور  پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کر لیں گے اور میڈیا سارے کا سارا صابر شاکر بنا رہے گا۔بدقسمتی سے وہ شائد واقف نہیں کہ اسی میڈیا میں نثار عثمانی بھی موجود ہوتا ہے۔

عوام سوچ رہے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وزیر اعظم کی ٹیم  عوام کے ساتھ انھیں بھی دھوکہ دے رہی ہے اور غلط اعدادو شمار فراہم کر کے ثابت کر تی ہے کہ سب ٹھیک ہے ۔  وزیر اعظم کی ٹیم کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ آپ سب کو بے وقوف نہیں بنا سکتے ایک طرف عوام کو یہ خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے اور دوسری طرف ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی خبر سامنے آتی ہے سوال یہ ہے کہ اگر زر مبادلہ کے ذخائر میں اضا فہ ہو گیا ہے تو ڈالر کی قیمت کیوں اوپر جا رہی ہے۔لیکن ہمارے ہاں ایسا ہی ہو رہا ہے۔وہی وزیر اعظم عمران خان ہیں جو کہتے تھے کہ ایک روپیہ ڈالر مہنگا ہو تو قرضوں میں کئی ارب اضافہ ہو جاتا ہے لیکن شاید ابھی ان کی معاشی ٹیم نے انھیں نہیں بتایا کہ ڈالر کی قیمت اگر میں پچاس روپے سے زائد  اضافہ ہو تا ہے توقرض میں کتنا اضافہ ہو گا اور اگر قرض میں اضافہ ہو گا تو مہنگائی بھی بڑھے گی۔موجودہ حکومت میں شامل بیشتر وزراء کا تعلق جنرل مشرف کی ٹیم سے بھی رہا ہے یہ وہ دور تھا جب ڈالر کی قیمت مستحکم تھی وجہ جو بھی ہو لیکن اس وجہ سے مہنگائی میں اس تیزی سے اضافہ نہیں ہو ا تھا۔کیا یہ وزراء اپنے اس دور کے تجربہ سے اب فائدہ نہیں اٹھا سکتے اس کا جواب یقینا ہاں میں ہو گا لیکن لگتا ہے کہ وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ کہیں اس حکومت کو فیل تو نہیں کرنا چاہتے  اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو پھر اس بات میں وزن محسوس ہو گا۔

  اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کی طرف سے مبینہ کرپشن کرنے والوں کے احتساب کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال اور اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال پاکستانی معیشت کے لیے مضر ثابت ہو ئی۔ اس وقت کئی ایسی چیزیں ہو رہی ہیں کہ آپ سمجھتے ہیں کہ کل کو پتا نہیں کون پکڑا جائے گا۔یہ خدشہ معیشت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ یقینا موجودہ حکومت کا ایک بڑا نعرہ ہے انصاف اور کرپشن  یہ بڑا اچھا اقدام ہے کہ جس نے اس قوم کا پیسہ لْوٹا اس کا ہم باقاعدہ (احتساب) کریں تاہم اگر ہم اس کو بغیر دیکھے اور بغیر سوچے سمجھے تفریق  کے ساتھ استعمال کریں گے یعنی یکطرفہ احتساب  جیسا کہ ہو رہا ہے  اس سے غیر یقینی  صورتحال پیدا ہوگی۔ اس غیر یقینی کی صورتحال کا زیادہ مضر اثر  بھی ہو سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے معاشی مسائل  کئی  دہائیوں پرانے ہیں۔لیکن انھیں حل کرنے کے لئے ان پر کام کرنا ہو گا۔عوام کو ٹیکس کی طرف بھی راغب کرنا ہو گا اور انہیں یہ یقین دلانا ہو گا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے حکومت کی عیاشی پر نہیں ان پر خرچ کئے جائیں گے۔

اس وقت عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں غریب شخص غریب تر اور امیرشخص امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جب عوام کے مسائل حل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں تو عوام نے حسرت اور امید کی نگاہ سے  عمران خان کی طرف دیکھا  لیکن افسوس کہ انکی ٹیم نے ہی لگتا ہے انھیں مروا دیا ہے۔اور عوام میں جو عمران خان کی صورت میں جو امید کی کرن پیدا ہوئی تھی وہ ماند پڑتی جا رہی ہے اس سے قبل کہ یہ امید کی کرن بھی ختم ہو جائے حکومت وقت کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے نکل کر سوچنا ہو گا کہ عوام کے مسائل کیسے حل کرنا ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے لیکن اس کے لئے کئے جانے والے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اورپاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی  بل پر کام بھی ضرور کریں کسی کو اعتراض نہیں ہو گا لیکن اس سے پہلے حکومت کو عام آدمی کو ریلیف دینے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا اور عوام کے حقیقی مسائل حل کرنا ہونگے ورنہ  عوام کو آپ سے دلچسپی ہو گی نہ آپ کے کاموں سے اور عوام کے پاس بہترین موقع انتخابات ہوتے ہیں جو اب زیادہ دور نہیں حالیہ کینٹ کے انتخابات کے نتائج سے اندازہ ہو جانا چاہئے کہ اونٹ کیوں اس کروٹ بیٹھ رہا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ جب عوام جاگ جاتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ بھی کچھ نہیں کر سکتی۔لیکن اگر ترجیحات درست ہوں اور عوامی مفاد میں ہوں تو عوام سر پر بٹھا کہ لاتی ہے۔