پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ 

جوڈیشل ایکٹوازم پینل  کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت مسلسل عوام پر پٹرول بم گرا رہی ہے جبکہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ بلاجواز اور عوامی حقوق کے خاتمے کے مترادف ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ 

 درخواست میں کہا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کیا گیا جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ عدالت سے استدعا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں  اضافہ کالعدم قرار دیا جائے۔ 

واضح رہے کہ حکومت نے دو روز قبل رواں مہینے کے 15 دن کیلئے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لٹر اضافے کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا جس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوا۔ 

نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 5 پیسے فی لٹر، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 82 پیسے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔