کون لوگ او تسی…!!

کون لوگ او تسی…!!

ایک طرف تو پاکستان میں ہونے والی تباہ کاریوں اور اور ان کے نتیجہ میں پہنچنے والے نقصانات پر پوری دینا میں ہاہاکار مچی ہوئی ہوئی ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک اور بین لاقومی ادارے سوچ میں ہیں کہ کس طرح پاکستان کو زیادہ سے زیاد ہ  مدد  اور سہولت فراہم کی جائے ، تودوسری طرف ہمارے سیاسی رہنمائوں کے رویے اور اندازدیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہ کسی آفت زدہ ملک کے لیڈر ہیں یا انہیں رتی برابر بھی احساس ہے کہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بدترین قسم کی مشکلات کا شکار ہے۔ 

میں بطور عوام یہ دیکھتا ہوں کہ ہمارے مقبول لیڈر میرے نام پر چندہ، خیرات اور امداد تو ضروراکٹھا کر رہے ہیں لیکن حیران ہوتا ہوں کہ یہ سب جا کہاں رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت میری مدد صرف وہ ادارے اور تنظیمیں کر رہے ہیں کہ جن کے امیدواران کو میں نے کبھی عام انتخابات میں کامیاب ہی نہیں ہونے دیا۔ 

 میرا دل اس وقت کتنا کڑہتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو سیلاب سے تباہ حال میرے بہن بھائی اور بچے کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے بھوک، بیماری اور تنگ دستی کا سامنا کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہماری تقریباً تمام ہی بڑی سیاسی پارٹیوں کے راہنما عوام کی ان مشکلات سے غافل ایک طرف تو بھرپور قسم کے پروٹوکول اور سرکاری مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں تو دوسری طرف بے حسی، بے مروتی، بے وفائی اور بے عتنائی کی مورت بنے ہوئے  سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے میں مصروف ہیں۔

 کوئی ، ملکی حالات سے قطع نظر ، نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہا ہے، کوئی لانگ مارچ اور جلسے جلوس کی کالیں دے رہا ہے توکوئی کسی عدالتی فیصلہ کے اپنے حق میں آ جانے کے نتیجہ میں ٹی وی چینلز پر آ کر جشن منا رہا ہے اور ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائی جا رہی ہیں۔ ایک صاحب جن کی حکومت کے خلاف حال ہی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے وہ تو اس بات کا بدلہ پوری قوم سے لینے کے درپے ہیں۔ کبھی 

وہ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرض کو رکوانے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی اس بات کا پرچار کرتے ہیں کہ چاہے سیلاب زدگان کے لیے ہی سہی لیکن کوئی بھی موجودہ حکومت کی مدد نہ کرے۔

 وطن عزیز کی اس نام نہادقیادت کا رہن سہن اور کرتوت دیکھ کر شائدتو کوئی یقین ہی نہ کرے کہ یہ ایک مفلس اور آفت زدہ قوم کے لیڈرز ہیں۔ موجودہ حالات میں فکرمندی کی بات تو یہ ہے کہ ان ’محب وطن راہنماوں‘ کی سرگرمیوں کا مشاہدہ وہ لوگ بھی کر رہے ہوں گے جو ہمیں ان مشکل حالات میں مدد فراہم کر رہے ہیں یا اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ یقینا ان کے طور طریقے دیکھ کر امداد کرنے والی حکومتیں ، ادارے یا افراد بھی سوچ میں پڑ جاتے ہوں گے کہ کیا یہ قوم واقعی مستحق ہے بھی یا نہیں؟ یعنی قیام پاکستان کے بعد سے آج تک ان لوگوں نے جولوٹ مار کی ہے وہ توایک طرف لیکن ان کی حرکات اور رویوں کی وجہ سے آج اس مشکل گھڑی میں ہمیں ملنے والی امداد بھی خطر ے میں پڑ سکتی ہے۔ 

انتہائی دکھ، افسوس اور حیرت کی بات ہے کہ سیاستدانوں کے تماشے ایک ایسے ملک میں جاری ہیں جہاں کے تقریباً ساڑھے تین کروڑ لوگ سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں اس کے علاوہ متاثرہ افراد اور اثاثوں (نجی اور سرکاری) کی بحالی کے لیے حکومت (اگر پوری ایمانداری اور خلوص نیت سے کوشش کرے تو بھی) یہ بوجھ اٹھانے کی کسی بھی طور قابل نہیں۔ یقینی طور پر بحالی کے اس عمل کے لیے اربوں روپے کی امداد درکار ہے۔

سیلاب کی تباہی سے نمنٹنے کے لیے بظاہر تو ہر طرف اچھا ہی کام ہوتا نظر آتا ہے ۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ تقریباً تمام ہی سیاسی پارٹیاں، این جی اوز  اور  ادارے  امداد اکٹھا کرنے کی مہم پر ہیں اور مقامی اور بین الاقومی سطح پر اور کروڑوں روپے اکٹھا کیے جا نے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن میدان عمل میں محرومی، بیماری اور افلاس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اسی قسم کی ہنگامی صورتحال میں ایک موثر کردار ادا کرنے کے لیے اربوں روپے کے فنڈز سے چلنے والے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے جیسے اداروں کا کہیں وجود ہی نظر نہیں آ رہا۔ 

 بلا شبہ اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے قومی اور بین لاقومی سطح پر بڑی تعداد میں امداد جمع ہو رہی ہے لیکن امداد جمع کرنے کے بعد اس کی بھرپور طریقے سے اور منصفانہ انداز میں تقسیم کا مسئلہ درپیش ہے۔ لیکن حکومت کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ نہ تو متاثرہ افراد اور نہ ہی متاثرہ علاقوں کا کوئی جامع ڈیٹا بیس موجود ہے کہ جس کی مدد سے سائینٹفک بنیادوں وں پر امداد کی فراہمی اور علاقوں کی بحالی کے کام کی ترجیحات متعین کی جاتیں۔ فوج اور رفاہی ادارے اس قسم کا کام کرنے کی کوشش تو کر رہے ہیں لیکن در اصل  یہ ان کا کام ہے ہی نہیں۔ یہ کام تو لاکھوں روپے ماہانہ کی تنخواہوں پر سفارشی بھرتی ہونے والوں کا تھا جو اب تک اسے موثر انداز میں سر انجام دینے میںبری طرح سے ناکام ہیں۔

یقینا سیلاب سے جو تباہی ہوئی ہے اس کی بحالی کا کام دنوں، ہفتوں یا مہینوںکا نہیں بلکہ سالوں کا ہے۔ حکومت اب بھی ہوش کے ناخن لے اور سطحی لیول پر معاملات کو حل کرنے کے بجائے اس کام کو منظم انداز میں سرانجام دینے کا انتظام کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ موصول ہونے والی تمام تر امدادی رقوم اور سامان کا مکمل آڈٹ ہو اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سیلاب زدگان کے نام پر امداد اکٹھی کر کے کوئی خو د ہی اس کو ہڑ پ نہ کر جائے(ایک بڑی سیاسی پارٹی پر اس قسم کے الزامات ثابت بھی ہو چکے ہیں کہ وہ رفاعی کاموں کے لیے  بیرون ملک سے فنڈز جمع کرنے کے بعد انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے) ۔ اس کے علاوہ  امداد کی فراہمی صرف چند علاقوں تک محدود نہ ہو ، یا صرف آگے آگے ہو کر مال اکٹھا کر نے والے افراد اور پیشہ ور بھکاری ہی امدادی سامان نہ لے اڑیں بلکہ یہ حقیقی مستحقین تک پہنچانے کا فول پروف انتظام ہو۔