شہباز شریف جیت گئے

شہباز شریف جیت گئے

مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس میں باعزت بری ہوکے اپنے چاچو کے پاس پہنچیں تو انہوں نے بیٹی کو گلے سے لگاتے اور مبارکباد دیتے ہوئے کہا،’ اللہ نے بہت کرم کیا، ابو بھی بہت جلد آئیں گے، انشاء اللہ‘۔ یہ واقعی شریف فیملی پر اللہ کا کرم ہے کہ وہ مشرف دور کے بعد ایک مرتبہ پھر بڑی آزمائش سے نکلی ہے اور کوئی مانے نہ مانے، یہ کامیابی شہباز شریف کی حکمت عملی اور فراست کی ہے۔ آغاز وہ تھا جب مریم نواز اڈیالہ جیل سے جاتی امرا اور نواز شریف کوٹ لکھپت جیل سے لندن پہنچے تھے اور یکطرفہ احتساب کو ریورس گیئر لگنا شروع ہوا تھا۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانتیں منظور ہوئی تھیں۔ شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال سمیت باقیوں کو ریلیف ملا تھا۔ یہ شہباز شریف ہی تھے جنہوں نے مسلم لیگ نون اور شریف فیملی کی سیاست کو بندگلی میں جانے سے روکا اوراس کے لئے انہوں نے اپنوں اور غیروں میں بہت پاپڑ بیلے۔ آج ایوان وزیراعظم میں بیٹھے ہوئے شہباز شریف بجا طور پر امید لگا سکتے ہیں کہ ان کے بھائی بھی سرخرو ہوں گے۔نواز شریف کوفخر ہونا چاہئے کہ انہیں ایسا محبت کرنے والا تابعدار بھائی ملا جیسا بے نظیر بھٹو کو نہ مل سکا اور چوہدری شجاعت حسین کو بھی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حکمت عملی پر یہ بحث آزاد کشمیر کے انتخابات میں بدترین شکست کے بعد شروع ہوئی تھی اورپارٹی کے اندر عملی ، حقیقی، عوامی اورزمینی سیاست کرنے والوں نے لندن میں بیٹھے ہوئے میاں نواز شریف کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ مزاحمت ہمارا راستہ نہیں ہے۔ ستمبر سے نومبر کے درمیان وہ وقت تھا جب خود پارٹی کے اندرجمہوریت کے نام نہاد علمبردار شہباز شریف کے خلاف وہ زبان استعمال کر رہے تھے جو پی ٹی آئی کے ٹرولز بھی نہیں کرتے۔ مجھے اچھی طرح علم تھا کہ نواز لیگ پانسہ پلٹ سکتی ہے لہٰذا میرے کالموں کی سیریز پر وہاں سے گالیاں دی گئیں جو آج مبارکبادیں وصول کر رہے اور وزیراعظم بننے کی امیدیں لگا رہے ہیں، آج امیدوں کے یہ محل اتنے بے بنیاد بھی نہیں۔ وہ وقت تھا کہ عمران خان ایکسپوز ہو تے چلے جا رہے ہیں۔ ان کے لئے عالمی برادری کی طرف سے بھی اتنی ’ نیگیٹو وائبس‘ تھیں کہ ریاستی فیصلہ سازوں کے لئے انہیںساتھ چلانا ممکن ہی نہیں رہ گیا تھا۔ خانصاحب غلطی پر غلطی کرتے چلے جا رہے تھے اور ان کی حکمرانی تاریخ کی ناکام ترین اور بدعنوان ترین درجے میں گنی جارہی تھی۔ ایسے میں اگر نواز لیگ مزاحمت جاری رکھتی تو ملک میں آمریت کا ایک اورسخت دور آسکتا تھا جسے ختم کرنے کے لئے مزید پانچ، سات برس لگ جاتے۔  

یہ اعتراض اب کوئی احمق ہی کرتا ہے کہ شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ قبول کرکے غلطی کی، جی نہیں، یہ کوئی غلطی نہیں تھی کہ اگر وہ یہ نہ کرتے توملک خدانخواستہ بدترین خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں سے دیوالیہ ہوجاتا۔ اپوزیشن کے لئے اقتدار کے دروازے اس وقت کئی برس کے لئے مزید بندہوجاتے جب عمران خان بطور وزیراعظم اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اہم ترین تقرریاں کرتے۔ وہ مریم نواز جو اس وقت باعزت بری ہونے کی خوشیاں منا رہی ہیں دوبارہ جیل میں ہوتیں کیونکہ عمران خان شہباز شریف سمیت اپوزیشن رہنماوں کو گرفتار کرنے کے لئے باولے ہوچکے تھے۔ انہوں نے شہزاد اکبر کو بے عزت کرکے عہدے سے اسی لئے نکالا کہ وہ شریف فیملی کو دوبارہ پابند سلاسل نہیں کر سکے۔ عمران خان اتنے جنونی ہورہے تھے کہ وہ شریف فیملی کی سیاست سے باہر خواتین کو بھی جیلوں میں ڈالنا چاہتے تھے۔ دوستوں کا دعویٰ ہے کہ جب ایوان وزیراعظم کی بہت ساری آڈیو لیکس ہوں گی تو ان میں یہ باتیں بھی سامنے آئیں گی کہ وزیراعظم کے عہدے پر بیٹھا ہوا شخص کس طرح اپنے سیاسی مخالفین کو بدترین حال میں پہنچانے کے نادر شاہی حکم دیا کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب وہ لوگ بھی نظر نہیں آتے جو کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ نے نون لیگ کے ساتھ ہاتھ کر دیا ہے او رعمران خان کو مقبول بنانے کے لئے شہباز شریف کووزارت عظمیٰ دی گئی ہے۔ اب یہ تجزیہ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ عمران خان تیزی کے ساتھ بند گلی میں سفر طے کر رہے ہیں۔ نواز شریف کی خوبی یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بات سن لیتے ہیں مگر عمران خان تو اس سے بھی عاری ہیں۔ وہ عوامی مقبولیت کے اس نشے میں گرفتار ہو چکے ہیں جس نے بڑے بڑوں کو ناک کے بل گرایا ہے۔ 

مان لیجئے، مسلم لیگ نواز کوئی مزاحمتی پارٹی نہیں ہے، اس کے حمایتی اور کارکن نہ تو بڑے دانشور ہیں اور نہ ہی جنگ جو۔ یہ سیدھے سادے پاکستانی اور پنجابی ہیں۔ یہ نواز شریف سے اس لئے محبت کرتے ہیں کہ وہ امن، ترقی اور خوشحالی کی علامت ہیں۔مجھے یہ مشورہ دینے میں عار نہیں کہ مسلم لیگ نون کو دوبارہ اپنا امیج یہی بنانا ہو گا کہ وہ پاکستان کو ایشئن ٹائیگر بنا سکتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس وقت بڑی مشکلات ہیں اور اسحق ڈار بھی آج سے چھ برس پہلے والی کمفرٹ ایبل پوزیشن میں نہیں ہیں مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ شہباز شریف اور اسحق ڈار دونوں ہی پریکٹیکل اپروچ رکھتے ہیں، وہ مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ لگ بھگ چھ، سات ماہ میں میاں نواز شریف بھی وطن واپس لوٹ آئیں گے اور اس طرح پارٹی کے اندر جوش اور ہوش کا ایک بہترین کمبی نیشن بنے گا بس درخواست یہ ہے کہ پاکستان کی بقا، تعمیر اور ترقی ایک مرتبہ پھر اسی جماعت سے منسوب اور منسلک ہو گئی ہے تو یہ پارٹی اپنے اندر بھی وقت کے مطابق تبدیلیاں لائے۔ پارٹی کے اندر جمہوریت کو فروغ دیا جائے،حکومتی اور پارٹی عہدوں کے لئے شریف فیملی اپنے سے باہر بھی نکلے اور اپنے کارکنوں کو اہمیت دے۔اس جماعت کا سب سے بڑا نقصان بیانیے کے محاذ یا مارکیٹنگ کے میدان میں ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک کے بعد سوشل میڈیا کے دور میں مارکیٹنگ کی اہمیت ایسی ہے جیسے آپ کوئی پلازہ بنائیںاور اس کی مارکیٹنگ نہ کرسکیں تو وہ پلازہ بند پڑا رہے گا اور مالک نقصان کے باعث دیوالیہ ہوجائے گا لیکن اگر آپ اس کی مارکیٹنگ اتنی اچھی کریں کہ وہ بننے سے پہلے ہی بک جائے تو اسی میں سب کا فائدہ ہو گا۔ آج کے دور میں کام کرنا اتنا اہم نہیں رہ گیا جتنا کام کرنے کے بارے میں بتانا اہم ہو گیا ہے۔

بہرحال، شہباز شریف کو مبارک باد، وہ اپنے خاندان اور پارٹی کی سیاست کو وینٹی لیٹر سے اتارنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اوریہ کامیابی ان کی بیک ڈور ڈپلومیسی سے ملی ہے مگر ابھی ایک طویل جدوجہد باقی ہے۔ ان کا سامنا ایک ایسے دشمن سے ہے جو لڑائی کی جدید ترین تکنیک یعنی میڈیا کے استعمال کا ماہر ہے۔ آنے والی جنگیں اب کارکردگی سے زیادہ ’پرسیپشنز‘ کی ہیں اور اس جنگ میں نوا ز لیگ کے فوجی بوڑھے، تھکے اورغیر تربیت یافتہ ہیں، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی اور جگہ جیتی ہوئی جنگ کسی اور جگہ سے ہار جائیں،مجھے نظر آ رہا ہے کہ اگلا مقابلہ پہلے سے کم سخت نہیں ہے، کچھ زیادہ ہی ہے۔