سرفراز کی ٹیسٹ کپتانی کو اپنوں ہی سے خطرہ لاحق ہوگیا

سرفراز کی ٹیسٹ کپتانی کو اپنوں ہی سے خطرہ لاحق ہوگیا
image by facebook

لاہور:تینوں فارمیٹ میں قومی کرکٹٹیم کی قیادت کے فرائض انجام دینے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد کوپی سی بی کی جانب سے نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں ’اے‘ کیٹگری دے کر قیادت پر اٹھتے سوالات پر کچھ وقت کےلئے جواب دے دیا گیا ہے.


 سرفراز احمد کے سر پر خطرے کے بادل اب بھی منڈلا رہے ہیں، 32 سالہ سرفراز احمد نے 13ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کی قیادت کی ہے جن میں سے 8 ٹیسٹ میں وہ بطور کپتان ناکام رہے ہیں۔ 

ماضی میں ون ڈے کپتانی سے علیحدہ کیے جانے پر ناراض ہو کر ٹیسٹ قیادت چھوڑنےوالے 34 سالہ اظہر علی ایک بار پھر مضبوط امیدوار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ”ماضی کا فیصلہ صورت حال کے مطابق تھا، ابھی بورڈ سے کسی بارے میں بات چیت کے لیے مدعو نہیں کیا گیا، ماضی میں جو کیا، وہ حالات کے مطابق تھا، اب پوچھا گیا، تو سوچوں گا، کیا کروں“۔ 

 دوسری جانب نائب ٹیسٹ کپتان اور 69 ٹیسٹ میں 38.95 کی اوسط سے 4323 رنز بنانے والے اسد شفیق نے صاف الفاظ میں کہا کہ ”کپتانی کےلئے تو ہر کھلاڑی تیار رہتا ہے، فیصلہ بورڈ کرتا ہے، کسے کپتان بنانا ہے، ابھی تو ہمارے کپتان سرفراز احمد ہیں، آگے کیا کرنا ہے، یہ تو بورڈ طے کرےگا“۔

بائیں ہاتھ کے اوپنر شان مسعود کہتے ہیں کہ ”کپتانی کے بارے میں باتیں میڈیا سے سنی ہیں، ابھی ساری توجہ بطور اوپنر کھیلنے پر مرکوز ہے، تاہم بورڈ نے کوئی ذمہ داری دی تو سوچوں گا“۔