بیورو کریسی اور آئی ایم ایف کے تحفظات، کامیاب پاکستان پروگرام موخر کرنے کا فیصلہ

بیورو کریسی اور آئی ایم ایف کے تحفظات، کامیاب پاکستان پروگرام موخر کرنے کا فیصلہ
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بیوروکریسی اور انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کے تحفظات کے باعث کامیاب پاکستان پروگرام کو موخر کرنے اور ابتداءمیں پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

نجی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت نے ملک بھر میں یہ پروگرام شروع کرنے کی بجائے ابتدائی طور پر پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کمرشل بینکوں کی شراکت داری میں اضافے کیلئے بینکوں کے ممکنہ نقصانات کی حکومتی ضمانتوں کو 50 فیصد کر دیا گیا ہے جو اس سے قبل 100 فیصد تھی اور وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری بھی دی تھی۔ 

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے کم آمدنی والے افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے شروع کردہ مذکورہ پروگرام کے تحت ملک بھر میں تین کروڑ غریب افراد کو تین سال کے دوران 16 سو ارب روپے کے بلاسود قرضے دیئے فراہم کئے جانے تھے۔ 

حکومت نے کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت دکانداروں، کاروباری افراد اور کسانوں کو بغیر ضمانت اور بلا سود چھوٹے قرضے جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس پروگرام کا بنیادی ہدف غریب طبقات ہیں مگر بیورو کریسی اور آئی ایم ایف کے تحفظات کے بعد اب یہ پروگرام محدود کرتے ہوئے قرض دہندگان کی تعداد اور اس کا حجم بھی کم کیا جائے گا۔ 

وزارت خزانہ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ کامیاب پاکستان پروگرام کا پائلٹ پراجیکٹ چلایا جائے گا جس کا دورانیہ ایک سال ہو گا اور پھر اس کے دائرہ کار میں اضافہ ہو گا۔ ابتدائی طور پائلٹ پراجیکٹ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے پسماندہ اضلاع میں شروع کیا جائے گا اور اس کی کامیابی کے بعد اسے ملک کے دیگر حصوں میں شروع کیا جائے گا۔ 

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے بھی پائلٹ پراجیکٹ چلائے بغیر عوامی سطح پر قرض کی فراہمی اور بینک نقصانات کی 100 فیصد حکومتی ضمانت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جبکہ گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے بھی بینکوں کے ممکنہ نقصانات کی 100 فیصد حکومتی ضمانت کی مخالفت کی تھی تاہم وفاقی کابینہ نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس کی منظوری دیدی تھی۔