پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کے باعث احتجاجی مظاہروں کا خدشہ ہے : آئی ایم ایف 

پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کے باعث احتجاجی مظاہروں کا خدشہ ہے : آئی ایم ایف 

لاہور: انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے سماجی شعبے کے نئے اہداف کا تعین کیا ہے اور رواں سال مہنگائی کی شرح 20 فیصد رہنے کی توقع ہے جس کے باعث ملک میں احتجاجی مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 20 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ مہنگائی میں اضافے کے باعث ملک میں احتجاجی مظاہرے بھی ہو سکتے ہیں، اتحادی حکومت کو پارلیمنٹ میں کمزور اکثریت حاصل ہے۔

آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان نے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد نہیں کیا اور 3 کارکردگی کی شرائط پوری نہیں کیں تاہم پاکستان کے قرض پروگرام کی مدت میں جون 2023ءتک توسیع کر دی ہے جس سے ضروری بیرونی فنانسنگ کے حصول میں مدد ملے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے 7 سٹرکچرل شرائط پر عملدرآمد نہیں کیا، زرمبادلہ کے ذخائر اور پرائمری بجٹ خسارے سمیت 5 اہداف پورے نہیں کئے گئے تاہم پاکستانی حکومت نے توانائی کے شعبے کیلئے نئی شرائط طے کی ہیں اور فیول سبسڈی کا خاتمہ، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا جاری کھاتوں کا خسارہ ڈھائی فیصد تک رہ سکتا ہے جبکہ مالی سال کے اختتام پر قرض بلحاظ جی ڈی پی 72.1 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، رواں سال معاشی شرح نمو 3.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے جبکہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بیرونی پوزیشن غیر مستحکم ہوئی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں نمایاں کمی آئی، پالیسی اصلاحات کے باوجود قرض پروگرام کو غیر معمولی خطرات کا سامنا ہے، گزشتہ سال کشیدہ سیاسی ماحول کے دوران کئی وعدوں اور اہداف پر عمل نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی عالمی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا، پاکستانی حکومت نے مالیاتی شعبے کے استحکام کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

آئی ایم ایف نے جائزہ رپورٹ میں مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے سماجی تحفظ اور توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ ٹیکس ریونیو اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے پر زور بھی دیا گیا ہے۔

مصنف کے بارے میں