خواتین نکاح خواں ہو سکتی ہیں ،سعودی عالم کا فتویٰ

خواتین نکاح خواں ہو سکتی ہیں ،سعودی عالم کا فتویٰ

جدہ :سعودی عرب کے مذہبی سکالر نے فتویٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین شادیوں پر نکاح پڑھا سکتی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق کونسل برائے سینئر سکالرز کے رکن شیخ عبداللہ المانع نے فتویٰ دیا ہے کہ خواتین شادیوں پر نکاح پڑھاسکتی ہیں کیونکہ اس میں کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہیں ۔


 انکا کہنا تھا کہ نوکری بنیادی طور پر شادی کے معاہدے کی دستاویز ہے اور اگر وزارت انصاف اس کی منظوری دیتی ہے تو پھر کوئی قانونی رکاوٹ نہیں رہے گی ۔

سعودی مذہبی سکالر نے مزید کہا کہ لائسنس کیلئے کوالیفائی کرنے کیلئے دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ درخواست گزار کا اچھا اخلاق ، اسلامی سکالرز کی 2سفارشات اور 25سال تک عمر ہونا ضرور ی ہے جبکہ یہ بھی لازم ہے کہ درخواست گزار کا کریمنل ریکارڈ بھی نہ ہو ۔

یاد رہے خواتین کی حمایت میں سکالر شیخ عبداللہ المانع کی جانب سے یہ پہلا فتویٰ نہیں آیا بلکہ گزشتہ ستمبر میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ خواتین خود ہی اپنی سرپرست ہیں اور شادی کے دورانیہ کے علاوہ اپنے تمام معاملات کو مینج کرنے کا قانونی حق رکھتی ہیں ۔

اٹارنی نجود قاسم نے عرب نیوز کو بتایا کہ شادیوں میں نکاح پڑھوانے کے حوالے سے خواتین کیلئے کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے اور اگر انہیں موقع دیا جاتا ہے تو خواتین میں اس شعبے میں آنے کی خواہش پیدا ہو گی ۔