پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں نے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب کئے ،ماہرین

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں نے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب کئے ،ماہرین

اسلام آباد:پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں نے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں،اس سے پاکستان کو بھی مستقبل میں خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق گرمیاں طویل اور درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے پاکستان پانی کی قلت کا شکا ر ہوسکتا ہے.


بارشوں کے موسم میں طویل خشک سالی پانی کے ذخائر کو متاثر کررہی ہے،جس سے زراعت پر منفی اثرات کے علاوہ توانائی پیدا کرنے کی استطاعت بھی متاثر ہورہی ہے۔پاکستان میں ڈیمز محض ایک ماہ تک کا پانی کا ذخیرہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور ایسے میں پانی کے حصول کا تمام تر دباو زمینی ذخائر پر پڑے گا.

جو پہلے ہی حد سے زیادہ ٹیوب ویلز اور بورنگ کی وجہ سے کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے گلیشئرز تیزی سے پگھل سکتے ہیں اوران کا پانی مون سو ن کی بارشوں کے ساتھ مل کر دریاوں میں طغیانی کا باعث بن سکتا،جس سے سیلاب کے خطرات بھی بڑھ جائیں گے،گلوبل وارمنگ کو قابو کرنے کے لئے ماہرین زیادہ سے زیادہ شجرکاری کا مشورہ دیتے ہیں۔

یہ موسمیاتی تبدیلی ہی ہے جس نے موسم بہار پاکستان میں اس قدر مختصر کردیا ہے کہ ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ آنے والے وقت میں موسم بہار ناپید ہوجائے گا۔موسمیاتی تبدیلی پاکستان کو غذائی تحفظ،توانائی اور سماجی