اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کا نوٹی فیکشن معطل، عہدے پر بحال

اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کا نوٹی فیکشن معطل، عہدے پر بحال

کراچی: سندھ ہائکیورٹ میں اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے حوالے سے درخواست کی سماعت کی گئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نے موقف دیا کہ ای ڈی خواجہ کو مارچ 2016 میں پولیس ایکٹ کے تحت تقرر کیا گیا تھا۔ سندھ رولز آف بزنس کے تحت آئی جی سندھ کی مدت ملازمت پانچ سال ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اے ڈی خواجہ کی تقرری پی ایس کی بنیاد پر کی گئی تھی اسلئے یہ سادہ تقرری و تبادلے کا معاملہ ہے۔


ایڈوکیٹ جنرل نے اعتراف کیا کہ یہ فیصلہ کابینہ میں نہیں ہوا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آئی جی کے عہدے کیلئے آل پاکستان پولیس سروس سے افسران کی خدمات لی جاتی ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ آیئنی فیصلے کابینہ کے ذریعے کیے جایئں گے۔ بظاہر سندھ ہائی کورٹ کے دسمبر 2016 کی خلاف ورزی کی گئی۔ اے ڈی خواجہ کو آئی جی کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور قائم مقام آئی جی عبدالمجید دستی کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے سندھ حکومت اور دیگر سے 6 اپریل تک تفصیلی جواب طلب کر لیا۔

دوسری جانب بحالی کے بعد آئی جی سندھ نے دفتر واپسی کے بعد کام شروع کر دیا۔ اے ڈی خواجہ نے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں ایڈیشنل آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور نیشنل مینجمنٹ کورس کے خصوصی وفد نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں مطالعاتی دورے کے شرکاء کو امن و امان کے اقدامات سمیت، پولیس کے مختلف شعبہ جات کے امور۔ انکی دستیاب وسائل کے تحت اپ گریڈیشن امور کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں