ہماری خارجہ پالیسی کا محور دفاع کی بجائے اقتصادیات ہونا چاہئے، ماہرین

ہماری خارجہ پالیسی کا محور دفاع کی بجائے اقتصادیات ہونا چاہئے، ماہرین

اسلام آباد: پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام اقتصادی سیاست کے ذریعے خطے میں تبدیلی کے موضوع پر ہفتہ وار سیمینار میں ماہرین نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کا محور دفاع کی بجائے اقتصادیات ہونا چاہئے۔


سیمینار سے اظہار خیال کرتے ہوئے ہارون شریف نے کہا کہ دنیا بھر میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو کہ گذشتہ 30برسوں میں خطے میں واضح دیکھی جا سکتی ہیں۔ عالمگیریت کے دور میں ممالک اپنے خطے میں رابطوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور نئے رحجانات کو اہمیت دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے عالمی اداروں کی طرف سے پاکستان کو راہنمائی فراہم نہیں کی گئی کہ وہ اپنی درست سمت متعین کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترجیحات کے پیش نظر پاکستان اور چائنیز کے رحجانات میں واضح تبدیلی آئی ہے جو کہ بڑھ کر وسطی ایشیاء تک جا رہی ہے۔ اب پاکستان بھارت اقتصادی تعاون غیر اہم ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فقط تجارت سے اقتصادی ترقی ممکن نہیں ہے۔ جب تک اس میں سرمایہ کاری شامل نہ ہو اور دونوں عناصر مل کر پائیدار اقتصادی ترقی کا سبب بن سکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کو نفرت کا خاتمہ کر کے اقتصادی ترقی کے لئے پھر سے سوچنا چاہئے۔ ہارون شریف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تین شعبہ جات میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیشہ وارانہ استعداد کار میں اضافہ کرے اور اقتصادی پالیسی کو تبدیل کرے۔ اقتصادی پالیسی کے ڈھانچے کو بہتر کر کے نجی شعبہ کو شامل کیا جائے۔ پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کے لئے سفارت کاری برائے اقتصادیات بہت اہم ہے۔ ہماری شرح نمو کی رفتار طویل عرصہ سے تبدیل نہ ہو سکی جب کہ ہماری آبادی میں بڑا حصہ نوجوان نسل کا ہے جو کہ ملک کا اصل سرمایہ ہے اس سرمایہ کا بہترین مصرف مہارت کی تشکیل سے ممکن ہے اس سے شرح نمو میں مثبت تبدیلی آسکے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سیکورٹی کو اعلیٰ بصارت سے انسانی اور انفرادی تحفظ کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ اس پر سنجیدگی سے غور خوض کر کے اپنے انتخابی منشور کا اہم جزوبنائیں ۔ اقتصادی تحفظ آج کی اہم ضرورت ہے۔

سینئیر تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کے رحجانات میں تبدیلی عالمی تغیرات کا حصہ ہے۔ جو کہ نو آبادیاتی عمل اور اس کے جزیات ہیں۔ پوری دنیا میں ہونے والے اس عمل میں روس کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی دفاع کے گرد گومتی ہے جبکہ اب یہ تبدیلی جو کہ انسانی اور معاشی رحجان اختیار کر چکی ہے۔