ملتان : غلط آپریشن سے 16 افراد کی بینائی جانے پر تحقیقاتی کمیٹی قائم

ملتان : غلط آپریشن سے 16 افراد کی بینائی جانے پر تحقیقاتی کمیٹی قائم
کیپشن:   ملتان : غلط آپریشن سے 16 افراد کی بینائی جانے پر تحقیقاتی کمیٹی قائم سورس:   file

ملتان : ملتان میں نجی ہسپتال میں آنکھوں کے آپریشن کے بعد 16 افراد کی بینائی چلے جانے پر کمشنر ملتان  کی ہدایت پر  تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی بنادی  گئی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے معاملہ سرجن پر ڈال کر واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ 

نیو نیوز کے مطابق 5 رکنی انکوائری کمیٹی کو 24 گھنٹے میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ترجمان کمشنر کا کہنا ہے کہ ضلعی ہیلتھ آفیسر میڈیکل سروسز انکوائری کمیٹی کے کنوینئر ہوں گے۔ ڈرگ کنٹرولر عبداللطیف، ڈاکٹر ارم ماہر امراض چشم کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کمیٹی کو شفاف انکوائری کرکے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

دوسری طرف جس ہسپتال میں شہریوں کی آپریشن کے بعد بینائی متاثر ہوئی اس کے منیجر کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے آپریشن کے دوران کیا ہوا کہ لوگوں کی بینائی چلی گئی ہمیں علم نہیں۔ آنکھوں کی بینائی جانے کا تعلق سرجن ڈاکٹر حسنین سے ہے۔ بینائی سے محروم ہونے والے افراد کو مفت علاج کریں گے۔

واضح  رہے کہ  ملتان کے نواحی علاقے لاڑ میں نجی ٹرسٹ ہسپتال میں 20 مارچ کو 16افراد کا آنکھوں کی موتیا کا آپریشن کیا گیا تھا۔بینائی سے محروم ہونے والے شخص رانا عبدالمالک نے بتایا کہ 20 مارچ کو اس سمیت 16 افراد نے انصاف صحت کارڈ کے توسط سے نجی ہسپتال میں آئی سرجن ڈاکٹر حسنین مشتاق سے آپریشن کروایا۔

رانا عبدالمالک کا کہنا ہے کہ 16 افراد میں 7 خواتین بھی شامل تھیں۔ آپریشن کے چند گھنٹے بعد ہی تمام مریضوں کی آنکھوں میں درد شروع ہو گیا جس پر انتظامیہ نے ایک رات ہسپتال میں رکھ کر صبح تمام مریضوں کو فارغ کردیا۔

تمام مریضوں کی آنکھوں کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی جبکہ تمام مریض اِس وقت ملتان اور لاہور کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

آپریشن کرنے والے آئی سرجن ڈاکٹر حسنین مشتاق کا کہنا ہے کہ آپریشن کرنے میں کوتاہی نہیں ہوئی بلکہ انفیکشن سے تمام افراد کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔