نیو یارک: طبعیت خراب ہونے پر بہت زیادہ پانی پینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔یہ انتباہ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔کنگز کالج ہاسپٹل کی تحقیق میں یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایک 59 سالہ خاتون بہت زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں شدید بیمار ہوگئیں۔

یہ خاتون جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، بہت زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں پیشاب کی نالی کی سوزش کا مرض لاحق ہوگیا تھا۔اس خاتون کے مطابق اسے ایک ڈاکٹر نے بہت زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیا تھا یعنی ہر گھنٹے میں آدھا لیٹر پینے کی پدایت کی گئی جس کے نتیجے میں پیشاب زیادہ آنے لگا۔اس خاتون کو بعد ازاں ہسپتال داخل کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کے خون میں نمک کی کمی جان لیوا حد تک کم ہوچکی ہے اور اس کی وجہ کم وقت میں بہت زیادہ پانی پینا ہے۔

تحقیق کے مطابق بہت زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں قے، سر چکرانے اور سردرد کی شکایت عام ہوجاتی ہے جبکہ سنگین معامالت میں دامغی سوجن ہوسکتی ہے جو کہ کنفیوژن، کوما اور موت کا باعث بن سکتی ہے۔محققین ابھی اس حوالے سے پریقین نہیں کہ کتنا زیادہ پانی جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اکثر ڈاکٹر مریضوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ پانی کا استعمال کریں مگر اس کے ساتھ ساتھ ممکنہ خطرات سے آگاہ نہیں کرتے جو کہ مریض کو معلوم ہونے چاہئے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے بی ایم جے کیس میں شائع ہوئے۔