ماسکو: ہیکرز نے روس کے مرکزی بینک کے اکاؤنٹ کو ہیک کرکے 2 ارب روبیلز (3 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز) چوری کرلیے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روسی مرکزی بینک کے ایک عہدے دار آرٹیوم سائیچیوف نے بتایا کہ ہیکرز نے تقریباً 5 ارب روبیلز چرانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ہیکرز نے کلائنٹ کی جعلی معلومات کے ذریعے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی اور رقم چوری کرنے میں کامیاب رہے۔مرکزی بینک نے اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی ہے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں سائر حملوں کا رجحان بڑھتا جارہا ہے اور دنیا بھر میں مالیاتی نگراں اداروں نے بینکوں کو ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ وہ بڑھتے ہوئی سائبر حملوں کے پیش نظر اپنی سیکیورٹی کو بہتر بنائیں۔

دوسری جانب روس کی جانب سے یہ بیان بھی جاری کیا گیا ہے کہ اس نے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی ایک سازش کا سراغ لگایا ہے جس کے تحت بیرونی طاقتیں روس کے بینکنگ سسٹم پر مسلسل سائبر حملے کرکے ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں۔اس سے قبل رواں برس فروری میں بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کے امریکا میں موجود شاخ سے بھی ہیکرز نے 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر چرا لیے تھے۔چوری کا مذکورہ واقع 5 فروری کو پیش آیا تھا اور اس رقم کے کھوجانے کے ایک ماہ بعد اس حوالے سے ہونے والے انکشاف کے باعث گورنر اسٹیٹ بینک سے استعفیٰ طلب کیا گیا تھا۔

ٹیکنالوجی کے ماہر ان ہیکرز نے بینک کے اکاﺅنٹس تک رسائی حاصل کرکے متعدد فراڈ اکاﺅنٹس میں پیسے فلپائن اور سری لنکا ٹرانسفر کرانا شروع کردیئے تھے۔

یہ ہیکرز کامیابی سے 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر فلپائن کے 4 اکاﺅنٹس میں منتقل کرچکے تھے مگر بنگلہ دیش کے لیے یہ کوشش زیادہ بدترین صرف اس لیے ثابت نہیں ہوسکی کیونکہ ایک ہیکر نے اسپیلنگ میں غلطی کردی۔

20 ملین ڈالرز کی 5 ویں ٹرانزیکشن سری لنکا کی کسی این جی او Shalika Foundation کے نام سے کی جانی تھی مگر ہیکرز نے غلطی سے فاﺅنڈیشن کو fandation لکھ دیا جس کے نتیجے میں ڈچز بینک نے بنگلہ دیش سینٹرل بینک سے وضاحت طلب کی جس پر ٹرانزیکشن کو روک دیا گیا۔