سعودی عرب میں تبدیلی کے لیے سرگرم بہادر خاتون کارکن

جدہ: سعودی عرب میؔں  انسانی حقوق کے لیے سرگرم خاتون کارکن سعاد الشعری  خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں برابری ملنی چاہیے۔ اس مقصد کی خاطر وہ اسلامی تعلیمات کی تشریحات سے مدد لینے کے حق میں ہیں۔

الشعری نے جب ٹوئٹر پر اپنے پیغامات کی ایک سیریز میں لکھا تھا کہ سعودی مذہبی رہنما اگر داڑھی رکھتے ہیں تو وہ صرف اسی باعث مقدس نہیں ہو سکتے، تو انہیں معلوم نہ تھا کہ انہیں اس تبصرے پر تین ماہ قید کی سزا سنا دی جائے گی۔ تاہم انہیں آزادانہ طور پر اپنی رائے کے اظہار کے جرم میں تین ماہ تک جیل میں قید رہنا پڑا تھا۔

دو مرتبہ طلاق یافتہ اور چھ بچوں کی ماں سعاد الشعری اسلامک لاء کی گریجویٹ ہیں۔ وہ پہلے بھی اس طرح کے خیالات کا اظہار کر چکی تھیں اور اب جیل کی سزا کے بعد بھی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے کے حوالے سے ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔سعاد خود کو ایک لبرل فیمینِسٹ قرار دیتی ہیں لیکن وہ اپنی دلیل کو اسلامی حوالہ جات سے مضبوط کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے وہ اس وقت فعال ہوئی تھیں، جب ایک عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ ان کی سات سالہ بیٹی ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ طلاق کے بعد ان کی بیٹی ایک ایسے گھر میں نہیں رہ سکتی، جہاں ایک مرد بھی رہتا ہو۔ تب وہ دوسری شادی کر چکی تھیں۔ تاہم انہوں نے یہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے ہوا کیونکہ خدا ایسا ہی چاہتا تھا۔