ایرانی ارب پتی ملزم کے لیے کرپشن کیس میں سزائے موت کی توثیق

تہران: ایرانی سپریم کورٹ نے ایک مقامی ارب پتی بزنس مین کو کرپشن کے الزام میں سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔ بابک زنجانی نامی اس کاروباری شخصیت کے لیے سزائے موت برقرار رکھنے کا اعلان ملکی عدلیہ نے ہفتہ تین دسمبر کو کیا۔
دبئی سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ایرانی سپریم کورٹ نے زنجانی کے لیے ایک ذیلی عدالت کا سزائے موت کا حکم برقرار تو رکھا ہے لیکن انہیں سنائی گئی اس سزا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ زنجانی کو سزائے موت دینے سے ان تمام اعلیٰ ایرانی حکام کی شناخت ہمیشہ کے لیے چھپا دی جائے گی، جنہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران میں اپنے اختیارات کا مجرمانہ استعمال کرتے ہوئے اس بزنس مین کی کرپشن میں اس کی مدد کی تھی۔
خود بابک زنجانی کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کے دور میں اربوں ڈالر کے تیل کی فروخت کے معاہدوں کا اہتمام کیا تھا اور اس عمل میں کئی ایسی کاروباری کمپنیوں کا وہ نیٹ ورک استعمال کیا گیا تھا، جو ملائیشیا اور ترکی سے لے کر متحدہ عرب امارات تک پھیلا ہوا تھا۔

زنجانی کو سزائے موت کا حکم اس سال مارچ میں سنایا گیا تھا اور ایرانی دفتر استغاثہ کا الزام ہے کہ ابھی تک اس کے ذمے کم از کم بھی 2.7 ارب ڈالر سے زائد کی وہ رقوم باقی ہیں، جو اسے تہران میں ملکی وزارت تیل کے لیے ایرانی حکومت کو ادا کرنا ہیں۔

ارب پتی بزنس مین بابک زنجابی کو سنائی گئی سزائے موت کے شدید ناقدین میں موجودہ ملکی صدر حسن روحانی بھی شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ زنجانی کو موت کی سزا دینے سے ان تمام سرکاری اہلکاروں کی شناخت کا افشاء اور ان سے سرکاری رقوم کی وصولی ناممکن ہو جائیں گے، جنہوں نے بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زنجانی کے ساتھ مل کر ایرانی تیل بیرونی منڈیوں میں فروخت کیا تھا۔

بابک زنجانی نے ایک مرتبہ ایک ایرانی جریدے کو بتایا تھا کہ وہ قریب 10 ارب ڈالر کا مالک ہے اور تقریباﹰ اتنی ہی مالیت کے قرضے اس کے ذمے واجب الادا بھی ہیں۔

مصنف کے بارے میں