کیا آپ کی خون کی شریانوں میں بھی کہیں بندش ہے؟ جانئے وہ 6 علامات جو آپ کی زندگی بچاسکتی ہیں

نیویارک: بعض اوقات انجانے میں ہم ایسا کام کررہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری خون کی شریانیں بند ہوجاتی ہیں اور ہمیں اس کا بھی علم نہیں ہوپاتا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر خون کی شریان بند ہوجائیں تو اس کی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں لیکن ہمیں اس کا علم نہیں ہوپاتا۔نیویارک کے معروف ہسپتال کے ماہر صحت ڈاکٹر لیوئس نوارا نے اس کی چھ علامات بتائی ہیں،آئیے آپ کو اس سے آگاہ کرتے ہیں۔

بلاوجہ کھانسی: اگر زکام کی وجہ سے کھانسی ہوتو بات سمجھ آتی ہے لیکن اگر یہ بلاوجہ ہونے لگے تو یہ شریانوں کے بند ہونے کی علامت ہے۔ شریانوں کی تنگی کے باعث سانس لینے میں تکلیف،دل کی دھڑکن تیز اور ساتھ ہی سینے میں درد رہنے لگتا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اکثر ایسی کھانسی خشک ہوتی ہے لیکن کبھی کبھار بلغم بھی آنے لگتی ہے۔

ایک عضو میں سوجن:  دونوں اعضاءمیں سوجن آنے کی بجائے صرف ایک عضو میں ایسا ہوتو یہ بند شریانوں کی واضح علامت ہے۔اس علامت میں آپ کا ایک پاﺅں یا ہاتھ سوج جائے گا،اگر سوجن کے ساتھ درد بھی ہوتو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

ٹانگ یا بازو میں درد: اگر آپ کی ٹانگ یا بازو کے جوڑ میں درد ہونے لگے تو یہ بھی خون کی شریان بند ہونے کی علامت ہوسکتی ہے اور آپ کو اپنے معالج سے فوری مشورہ کرنا چاہیے۔

جلد پر سرخی: اگر چوٹ لگے بغیر آپ کی جلد پر سرخی یا خون جم جانے جیسے آثار نمودار ہونے لگیں تو یہ بھی بند شریان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ایسی جگہ پر چھونے سے آپ کو حرارت کا احساس بھی ہوگا۔

سینے میں درد:  اگر سینے میں درد ہوتو یہ دل کے دورے کی علامت نہیں کیونکہ بعض اوقات تنگ شریانوں کی وجہ سے بھی ایسا ہوتا ہے۔اس درد میں سانس لیتے ہوئے سینے میں کوئی چیز چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جبکہ دل کے دورے کی درد سینے سے بازﺅں میں چلتی ہے لیکن شریانوں کی تنگی کی وجہ سے ایسا نہیں ہوتااور ہر سانس کے ساتھ یہ درد شدید ہوتی جاتی ہے۔

دل کی تیز دھڑکن یا سانس لینے میں مشکل: اگر پھیپھڑوں میں کوئی خون کا لوتھڑا جم جائے تو اس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور جسم میں آکسیجن کم ہونے لگتی ہے۔کم آکسیجن کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ڈاکٹر نوارا کا کہنا ہے کہ دل کی تیز دھڑکن اورسانس لینے میں دشواری کی وجہ بند شریانیں ہوسکتی ہیں۔