سپریم کورٹ کا خیبر پختونخوا حکومت کی صحت کے شعبے میں کارگردگی پر عدم اطمینان

سپریم کورٹ کا خیبر پختونخوا حکومت کی صحت کے شعبے میں کارگردگی پر عدم اطمینان
میں تین چار دن بعد دوبارہ دورہ کر کے دیکھوں گا کہ کیا بہتری آئی ہے، چیف جسٹس۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خیبر پختونخوا کے اسپتالوں کے فضلے کی تلفی کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کن بنیادوں پر آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کے پی کو جنت بنا دیا گیا ہے۔


چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سماعت شروع ہوئی تو صوبائی سیکرٹری صحت عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر استفسار کیا خیبرپختونخوا کے وزیر صحت کیوں نہیں آئے اور سیکرٹری صحت ہر بار پیش ہو جاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت سے استفسار کیا کہ آپ نے پشاور مینٹل اسپتال کا دورہ کیا ہے جس پر انہوں نے کہا گزشتہ ہفتے گیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا وہاں انسانوں کو جانوروں سے بھی بدتر حالت میں رکھا جا رہا ہے اور لوگ اپنے گھروں میں کتوں کو بھی اس طرح نہیں رکھتے۔ سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا نے کہا کہ آپ کے دورے کے بعد بہتری کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں اور ایک الگ کیمپس بھی قائم کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے میں سیمپل لایا تھا وہاں دوائیاں زائد المعیاد ہیں اور ڈاکٹر بھی نہیں جاتے۔ کن بنیادوں پر آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کے پی کو جنت بنا دیا گیا اور صوبے کی حالت بدترین ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں تین چار دن بعد دوبارہ دورہ کر کے دیکھوں گا کہ کیا بہتری آئی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 2 ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔