طالبان اور میڈیا کی آزادی

Khalid Minhas, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, e-paper

گزشتہ کالم میں نیوزی لینڈ کی جس خاتون صحافی کا ذکر کیا تھا بالآخر نیوزی لینڈ کی حکومت نے انہیں ملک واپسی کی اجازت دے دی ہے۔ نیوزی لینڈ میں حاملہ خاتون صحافی کے قرنطینہ کے انتظامات کر دیے گئے ہیں اور یہ سارا کام طالبان کی جانب سے کیے جانے والے حسن سلوک کی وجہ سے ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر جب یہ معاملہ اچھلا تو نیوزی لینڈ کی حکومت کو یہ احساس ہوا کہ انہوں نے کتنی بڑی غلطی کر دی ہے۔ شکر ہے کہ غلطی کا احساس کر لیا گیا اور اب یہ خاتون صحافی اپنے ملک واپس جا سکے گی مگر اس واقعہ نے یہ بات تو ثابت کر دی کہ افغانستان میں سب کچھ برا نہیں ہے۔ طالبان پر بہت سے الزامات لگائے جا سکتے ہیں ، ان کی سفاکی کی داستانیں گھڑی جا سکتی ہیں مگر آخر وہ بھی انسان ہیں اور انہوں نے اس گھڑی بھی اپنی صلہ رحمی کو دنیا کے سامنے پیش کیا جب ہر طرف سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شارلٹ بیلس نے ایک انٹرویو میں نیوزی لینڈ کی حکومت سے سوال کیا کہ ’آپ کیا چاہتے ہیں، میں کیا کروں؟ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔ بس میں حاملہ ہو گئی۔۔۔ مجھے ایک ملک سے نکالا گیا کیونکہ اگر میں وہاں رہتی تو جیل چلی جاتی۔۔۔۔ اب میرے پاس صرف افغانستان کا ویزا ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں میں افعانستان میں اپنی بچی کو جنم دوں؟‘

’آپ کیوں ان قواعد میں اتنا الجھ کر رہ گئے ہیں کہ آپ کو احساس ہی نہیں ہو رہا کہ میں نیوزی لینڈ کی شہری ہوں اور مجھے مدد کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے اپنی صورتحال کے حوالے سے حکام کو آگاہ کیا تھا انھوں نے نیوزی لینڈ میں ایم آئی کیو اور امیگریشن حکام کو 59 دستاویزات فراہم کی تھیں جن میں ماہر امراض نسواں کے خطوط، ڈلیوری کی تاریخ، ویکسین سرٹیفیکیٹ اور دیگر طبی دستاویزات کے ساتھ ساتھ حمل کے دوران ذہنی تناؤ کے 

اثرات اور افغانستان میں بچے کی پیدائش کے دوران خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

وہ پوچھتی ہیں کہ ’حکومت کو مزید کیا ثبوت چاہیے تھے؟ مجھے وقت کے حساب سے انتہائی نازک حالات میں طبی علاج کی ضرورت ہے۔' خاتون صحافی نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ میں افغانستان میں خواتین اور بچوں کے حوالے سے سوال کر رہی تھی اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد میں اپنی حکومت سے یہی سوال کر رہی تھی کہ وہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے کیا کر رہے ہیں۔ اس خاتون نے قطر میں بھی اپنے تعلق کو نہیں چھپایا اور الجزیرہ سے استعفیٰ دے کر وہاں سے نکل گئی کہ کہیں انہیں گرفتار نہ کر لیا جائے اور اپنے تعلق اور اپنے بچے کے حوالے سے اس نے طالبان سے بھی جھوٹ نہیں بولا کہ وہ بن بیاہی ماں ہیں۔ اس کے باوجود طالبان نے انہیں تمام تر سہولیات دینے کا فیصلہ کیا اور انہیں یہ یقین دلایا کہ انہیں کابل میں رہتے ہوئے کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔

اس کہانی نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں جگہ حاصل کی اور دنیا کو ایک المیے کا پتہ چلا۔ افغانستان وہ ملک ہے جس کے بارے میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے 2021 کی جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں اسے صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ اس دور پر بھی مشتمل ہے جب کابل پر امریکی اتحاد کی حمایت یافتہ حکومت برسر اقتدار تھی۔ اب بھی کابل میں صحافیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے اور وہ آزادی کے ساتھ اپنے فرائض منصبی ادا کرنے سے قاصر ہیں اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی خاتون رپورٹر کی کہانی نے طالبان کی حکومتی طرز عمل کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

کابل میں خواتین صحافیوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں اور انہیں کابل کے حکام کی جانب سے بلائی جانے والی پریس کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔ کابل میں خواتین صحافیوں نے افغانستان کی امارات اسلامیہ سے اپیل کی ہے کہ انہیں اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے کی اجازت دی جائے۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد کابل کے میڈیا میں خواتین صحافیوں کی تعداد خاصی کم ہو گئی ہیں۔ بہت سی خواتین نے ملک چھوڑ دیا ہے اور بہت سی بیروزگار ہو گئی ہیں۔ طالبان پر سب سے زیادہ تنقید اس طرز عمل پر کی جا رہی ہے کہ وہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔ ان پر تعلیم اور ملازمت کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ کابل 15 اگست 2021 کو طالبان کے قبضے میں آ گیا تھا اس کے بعد سے لے کر اب تک افغانستان میں 40 فیصد صحافتی ادارے بند ہو چکے ہیں اور یہ سروے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے کرایا ہے۔ افغانستان کی امارات اسلامیہ اس بات کی تردید کر رہی ہے کہ انہوں نے میڈیا یا خاتون صحافیوں پر کوئی پابندی عائد کر رکھی ہے مگر یہ معاملہ بیان سے ہٹ کر اصل میں بھی نظر آنا چاہیے۔ کابل سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خاتون صحافیوں کو سرکاری طور پر منعقد ہونے والی تقریبات میں شمولیت کی اجازت نہیں ہے۔ طالبان کو چاہیے کہ وہ ان اطلاعات کی محض تردید نہ کریں بلکہ دنیا کو یہ دکھائیں کہ ان کے دور میں افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے۔ وہ دنیا بھر کے میڈیا کو افغانستان آنے کی دعوت دیں تاکہ لوگ خود اپنی آنکھوں سے کابل کی صورتحال کو دیکھ سکیں۔ اپنے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا اس سے موثر جواب اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

نیوزی لینڈ کی خاتون صحافی نے طالبان کا سوفٹ امیج دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ طالبان آگے بڑھیں اور دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش کریں۔ ہر طرف سے ایک ہی مطالبہ ہو رہا ہے کہ خواتین اور بچوں کو ان کے حقوق دیے جائیں اور تمام طبقات پر مشتمل ایک نمائندہ حکومت تشکیل دی جائے۔ اگر یہ کام ہو جائے تو طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی اور وہ بھی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔

مصنف کے بارے میں