سپریم کورٹ نے 9 سال بعد سزائے موت پانے والے اقبال مسیح کو بری کردیا

سپریم کورٹ نے 9 سال بعد سزائے موت پانے والے اقبال مسیح کو بری کردیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے 9 سال بعد قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ملزم اقبال مسیح کو بری کردیا ۔


کیس کی سماعت جسٹس آصف سعد کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ ملزم پر پروین بی بی کو کرسچن کالونی وزیر آباد میں قتل کرنے کا الزام تھا ملزم کی وکیل صدیق بلوچ نے کہاکہ گواہان کے بیانات میں تضاد ہے جبکہ وقوعہ کا چشم دید گواہ کوئی نہیں ہے ، جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہاکہ جھوٹی گواہی پر ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی ،ملزم پر جرم ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہوتا ہے۔

صدیق بلوچ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کیسے ممکن ہے کہ مدعی کو قتل کی تاریخ تو یاد ہے وقت وقوعہ یاد نہیں،عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو بری کردیا ۔ ملزم کو ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے پھانسی کی سزا سنائی تھی لیکن سپریم کورٹ نے شک فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا اور قرار دیا کہ استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔