400افراد کی قاتل دنیا کی سب سے خطرناک خاتون یمن میں روپوش

400افراد کی قاتل دنیا کی سب سے خطرناک خاتون یمن میں روپوش
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

لندن: برطانوی انٹیلی جنس کو چند روز قبل دنیا کی سب سے خطرناک خاتون کے حوالے سے نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔


برطانوی میڈیا نے باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ انٹیلی جنس اداروں کے پاس 35 سالہ دہشت گرد برطانوی خاتون کے متعلق بہت سی معلومات ہیں۔سابقہ معلومات کے مطابق وہ کبھی کینیا اور کبھی صومالیہ میں روپوشی اختیار کرتی رہی ہے۔معلومات کے مطابق دنیا کی نمبر ایک دہشت گرد خاتون جس نے غالبا 400 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، شاید یمن میں موجود ہے جہاں یقینی طور پر اس کے تعلقات ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ سمانتھا دہشت گرد تنظیم حرکت الشباب کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے جس نے کئی برس تک کینیا اور صومالیہ میں موجودگی کے دوران برطانوی خاتون کو تحفظ فراہم کیا۔

یاد رہے کہ سمانتھا لیوتھویٹ ایک برطانوی فوجی کی بیٹی ہے۔ اس نے 15 برس کی عمر میں اسلام قبول کر کے اپنا نام تبدیل کر لیا تھا۔ وہ مغربی اور افریقی ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کی نظر میں ایسی شخصیت سمجھتی جاتی رہی ہے جو اپنے شوہر جیرمن لینڈسی کی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

جیرمن نے 7 جولائی 2005 کو لندن کی میٹرو ٹرینز کو نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے 4 حملوں میں خود کو 3 دیگر خود کش بم باروں کے ساتھ دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ ان حملوں میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔