ٹارزن کی واپسی

ٹارزن کی واپسی

عمر عزیز کا ایک اور سال روتے دھوتے گزر گیا۔ کیسے گزرا اللہ جانے یا بندہ، تبدیلی سرکار کو کوئی احساس نہیں، وہ اقتدار کے 3 سال بعد بھی یہی رٹ لگائے ہوئے ہے کہ مہنگائی کہاں ہوئی۔ کسی صاحب دل نے مہنگائی کا اعتراف کیا تو اسے سابق حکومتوں سے جوڑ دیا۔ ’’اپنے دامن پہ کوئی داغ نہ آنے پائے‘‘۔ ایسے چیمپئن ہیں کہ پلک جھپکتے سب کلیئر کر دیتے ہیں۔ 365 دنوں کی طویل راتیں اور تاریک دن گزر گئے۔ بقول چراغ حسن حسرت’’ رات کی بات کا مذکور ہی کیا۔ چھوڑیے رات گئی بات گئی‘‘۔ 2022ء آن پہنچا۔ نئے بکھیڑے نئے مسائل، 31 دسمبر کی رات لوگ نئے سال کی خوشیاں منا رہے تھے اسی دوران پٹرول کی قیمت میں 4روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا مرے پہ سو درے، جان لیوا مہنگائی کی نئی لہر بالآخر 30 دسمبر کو حکومت نے منی بجٹ کا بل پیش کر ہی دیا۔ اتحادیوں کی مخالفت کا ڈر تھا۔ ق لیگ والوں نے کہا ذاتی طور پر منی بجٹ کے مخالف ہیں اس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا لیکن جماعتی طور پر اتحادی ہیں اس لیے حمایت کریں گے یہی جمہوریت کا حسن ہے؟  پتا نہیں۔ منی بجٹ میں 350 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی۔ نمک، مرچ، مسالا، ماچس، گھی، چائے، موبائل فونز، بجلی گیس،پیٹرول، ڈائپر، کپڑے، ادویات، دالیں، گاڑیاں، میک اپ کا سامان پرفیوم، جوتوں اور ٹریکٹرز پر سے ٹیکس استثنیٰ ختم، ظاہر ہے رعایت واپس لی ہے تو جی ایس ٹی اور ڈیوٹیز بڑھیں گی۔ قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ مگر اللہ تعالیٰ چوتھے پانچویں وزیر خزانہ شوکت ترین کا عہدہ قائم رکھے انہوں نے قومی اسمبلی میںکس ڈھٹائی سے ببانگ دہل اعلان کیا کہ اس سے غریب متاثر نہیں ہوں گے۔ مہنگائی نہیں بڑھے گی۔ ’’تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو‘‘  لوگوں کو اتنے لوگوں میں جھوٹ بولتے لاج نہیں آتی ،اسد عمر نے بھی پتا نہیں کس کو کہا کہ شرم و حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے شیخ رشید کی دور بینی اور عقل و فہم کی تمام صلاحیتیں بھی برقرار رکھے۔ انہوں نے بھی (گڑبڑاتے ہوئے سہی) کہہ دیا کہ عام آدمی پر صرف 2 ارب کے ٹیکس لگیں گے۔ باقی ٹیکس خواص پر ہیں؟ جن میں موصوف خود بھی شامل ہیں لیکن وہ اور ان کے بھائی بند مہنگائی کے طوفان سے متاثر نہیں ہوں گے۔ خواص میں مینو فیکچررز، صنعتکار، کارخانوں فیکٹریوں کے مالک اور ماہانہ ڈیڑھ کروڑ تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین بھی شامل ہوں گے جو اپنا سارا بوجھ قیمتیں بڑھا کر عوام پر ڈال دیں گے۔ شیخ رشید نے تکلیف دہ بات کہی کہ منی بجٹ آنے سے قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی حالانکہ بقول غالب ’’کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور‘‘ 350 ارب کے ٹیکس لگا کر کہتے ہیں کوئی ٹیکس نہیں لگایا۔ بندہ پوچھے مہنگائی کیسے نہیں ہوگی۔ شیری رحمان نے تو راتوں رات حساب لگا کر بتایا کہ 150 اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی۔ یہ الگ بات کہ عوام کی چیخ و پکار پر کان اور آنکھیں بند کرلی جائیں تو ہر طرف خوشحالی اور ہریالی ہی نظر آئے گی۔ بد قسمتی ہے کہ عوام مہنگائی کے سیل رواں میں غوطے کھا رہے ہیں لیکن وزیر اعظم کا فرمان عالی شان کہ حکومت کو کوئی مشکل نہیں۔ واقعی ساری مشکلات عوام کی قسمت میں لکھی ہیں۔ حکومت کی جڑیں مضبوط 

تو حکومت مضبوط، چاروں پائے مضبوط تو پھر ڈر کاہے کا ،یار لوگ ایسے ہی بے پر کی اڑاتے رہتے ہیں کسی نے کہا تبدیلی سرکار کو تبدیلی کا سامنا ہے۔ دوسرا بولا ملک کی گیس نہیں حکومت کی گیس ختم ہو رہی ہے۔ وفاقی وزیر حماد اظہر سے لوگوں نے گیس فراہمی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے جی خوش کرنے والا جواب دیا کہ گیس ہے ہی نہیں تو کہاں سے دیں۔ اللہ وزیروں مشیروں اور ترجمانوں کو خوش رکھے یہ فارمولا ہر شعبہ میں اپلائی کیا جاسکتا ہے۔ چینی مہنگی ہے ہم کیا کریں ہے ہی نہیں کہاں سے دیں روٹی مہنگی سائز چھوٹا کردیا۔ کیا کیا جائے گندم ہے ہی نہیں کہاں سے دیں۔ کسی دل جلے نے شوشہ چھوڑا کہ نیا سسٹم لانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، لوگوں نے خوب خوب دل کے پھپھولے پھوڑے، طویل بحث کا آغاز ہوگیا۔ آصف زرداری اپنا فارمولا لے بیٹھے کہا کہ پہلے اس کی چھٹی کرو پھر فارمولا دوں گا۔ دراصل انہیں لاہور کے خیمہ میں سر چھپانے کو جگہ چاہیے۔ فرزند ارجمند بولے’’ سیاسی جنگ کا وقت آگیا۔ سلیکٹڈ گیا جیالے کمر کس لیں‘‘۔ فارمولا کس نے مانگا کچھ پتا نہیں سب سے زیادہ خوفناک اور راتوں کی نیندیں اڑانے والی خبر سردار ایاز صادق اور میاں جاوید لطیف نے دی کہ نواز شریف آرہے ہیں۔ مبہم سی سیاسی خبر وزیر اعظم تک پہنچی تو وہ شاید بہت پریشان ہوگئے فوراً جواب کی ضرورت محسوس کی کہا کہ نواز شریف کی سزا کا خاتمہ ممکن نہیں وہ تو ڈیل کے بغیر سعودی عرب سے بھی واپس نہیں آئے تھے، وزیر اعظم کی وضاحت کے بعد تو جیسے پنڈورا بکس کھل گیا۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ نواز شریف کی واپسی ٹاک آف دی ٹائون بن گئی۔ یوں لگا جیسے ٹارزن یا ہرکولیس کی واپسی ہو رہی ہے۔ لندن میں ملاقاتوں کی خبریں آنے لگیں۔ سیاں جی کو منانے کی کوششیں ان کی شرائط اپنے بیانیہ پر قائم، ادھر سے ناں سب کے جواب میں،’’ یہاں تک تو پہنچے یہاں تک تو آئے‘‘ منی بجٹ آنے سے پہلے 45 فیصد اور آنے کے بعد 75 فیصد عوام ٹارزن کی واپسی کی امیدیں باندھ بیٹھے، شکرونڈاں کے گیت الاپنے لگے جیسے ٹارزن آتے ہی سارے ستون گرا دے گا جس کے بعد سارے اتحادی اور الیکٹیبلز اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیںگے ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ 42 ارکان رولنگ اسٹون کبھی ادھر کبھی ادھر جہاں دیکھی توا پرات وہیں گزاری ساری رات، ویسے بھی حکومت آٹھ دس ارکان کے کندھوں پر قائم ہے۔ جو فی الحقیقت تھک چکے ہیں یوں لگتا ہے کہ نواز شریف کی واپسی ترجمانوں اور وزیروں مشیروں کی چڑ بن گئی ہے۔ وہ کچھ نہیں ہیں چور ڈاکو اور مجرم ہیں تو خوف کی علامت کیوں؟ چھوڑیں اپنا کام کریں عوام خود ہی نمٹ لیں گے۔ گزشتہ روز ایک دوست سے طویل مکالمہ ہوا کہنے لگے ’’سنا ہے کچھ ہونے جا رہا ہے‘‘ پوچھا ’’کیا ہونے جا رہا ہے‘‘ بولے یہ تو پتا نہیں مگر کچھ ہونے جا رہا ہے‘‘ پھر کہا ’’سنا ہے ہاتھ اٹھا لیا گیا ہے‘‘ پوچھا کیسے پتا چلا بولے ’’یہ تو پتا نہیں لیکن خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں شکست سے تو یہی لگتا ہے‘‘ وہ کہتے رہے ہم سنتے رہے بولے ’’سنا ہے ملک میں نیا سسٹم لایا جا رہا ہے‘‘ کیسے پتا چلا ایک ہی جواب ’’یہ تو پتا نہیں لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ تبدیلی کو کسی نئی تبدیلی سے بدلا جا رہا ہے‘‘۔ گزشتہ کئی روز سے کیسی خبریں آرہی ہیں جو حکومت کے لیے بھی باعث تشویش ہیں۔ ذہنوں میں ان گنت سوالات کلبلانے لگے ہیں۔ پھر جے یو آئی کے اسعد محمود کی قومی اسمبلی میں تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے بولے۔ انہوں نے ایوان میں کھڑے ہو کر کہا کہ انجام لکھا جا چکا ہے۔ اب کوئی نہیں بچا سکتا۔ پوچھا۔ ’’کہاں لکھا گیا کس نے لکھا۔ ’’بولے یہ تو پتا نہیں لیکن اسلام آباد میں سیاسی گہما گہمی ڈیل کی باتیں کسی فارمولے کی طلبی شہباز شریف کے رابطوں کی بحالی کی خبریں آپ کیوں نہیں سمجھتے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ ’’ہم نے انہیں رخصت کرتے ہوئے کہا ’’بھائی لگدا تے نہیں پر شاید‘‘ پرانے پاکستان کے سیانے لوگ موجودہ حالات سے پریشان ہی نہیں خوفزدہ بھی ہیں، منی بجٹ کے ساتھ سٹیٹ بینک کی خودمختاری کے بل پر بھی انجانے خوف اور ان دیکھے خوفناک مستقبل کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں۔ سیانوں کے خدشات اپنی جگہ لیکن حکومت اتحادی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ غالب نے اپنے دور میں غالباً گھبراتے ہوئے ہی کہا تھا۔ ’’رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔ جبکہ ہمارے دور کے شاعر امیر الاسلام ہاشمی نے گھبرائے بغیر کہ دیا کہ ’’جب تک رہے گا رسہ کشی رہے گی، کب تک رہے گا رسہ یہ عرض پھر کروں گا۔ 

مصنف کے بارے میں