مہنگائی کا جن اور اعلیٰ تعلیم

مہنگائی کا جن اور اعلیٰ تعلیم

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اب ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے تو آپ کو اپنی رائے سے رجوع کرنا چاہیے اور ان وجوہات پر نظر ثانی کرنی چاہیے جس کی بنا پر آپ اسے ایک خودمختار ملک سمجھتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ آپ کے ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔ ملک کا کونسا ایسا اثاثہ ہے جسے ایم ایف اے کے پاس رہن نہیں رکھا گیا اور قرض پر قرض لیا جا رہا ہے۔ یہ سب ماضی کا کیا دھرا نہیں ہے بلکہ تباہی سرکار نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض لے کر ان کی ہر شرط کو مان لیا ہے۔ سال کے آخری روز پٹرول چار روپے مزید مہنگا کر دیا گیا اور اس سے ایک روز قبل منی بجٹ پیش کر کے ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ کو واپس لیا گیا اور ساتھ میں ٹیکسوں کا اضافہ کر دیا گیا۔ 

گزشتہ دنوں سپیرئیر یونیورسٹی کے پرو ریکٹر، سابق چیئرمین ایچ سی سی پنجاب اور سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین سے ڈیفنس کلب میں کھانے پر ملاقات ہوئی۔ ملک میں اعلیٰ تعلیم سے لے کر موجودہ حکومت کی کارکردگی تک سبھی موضوع زیر بحث آئے۔ ڈاکٹر جام سجاد لاہور تھے تو انہوں نے اس ملاقات کا اہتمام کر دیا۔ ڈاکٹر نظام الدین ان دنوں سپیرئیر یونیورسٹی کے پرو ریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ادارہ خلدونیہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ اپلائیڈ سائنسز بھی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔اس حکومت کے دور میں مہنگائی اس قدر زیادہ ہے کہ سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہایئر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان اداروں کے پیچھے پڑا ہوا ہے جو حکومت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ کتابوں اور کاپیوں تک پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ پنجاب میں سرکاری جامعات کے بڑھتے ہوئے مسائل اور وائس چانسلرز کی تقرریوں کے حوالے سے معاملات بھی زیر بحث رہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کس طرح سرچ کمیٹی اپنا کام کرتی ہے اور کس طرح پسند نا پسند کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں تاہم وہ دو وائس چانسلرز کے بہت مداح تھے۔ ان میں ایک جھنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر ہیں اور دوسرے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ بولڈ فیصلے کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی یونیورسٹی آگے جا رہی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور اس نظام کو اس طرح ڈھالنا ہو گا کہ وہ پڑھے لکھے گریجویٹ پیدا نہ کرے بلکہ ایسی افرادی قوت مہیا کرے جو ہماری قومی ضروریات کو پورا کرے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں پر ایجوکیشن پر آئے روز نت نئے تجربات ہو رہے ہیں۔ سویڈن اور جرمنی نے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ادارے بنا کر دیے مگر ہم نے اس طرف پیش قدمی نہیں کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ جیسے ملک میں صرف اٹھارہ فیصد لوگوں کو یونیورسٹی تعلیم تک رسائی ملتی ہے اور وہ اس سے پہلے ہی انڈسٹری کی ضروریات کے تحت تعلیم مکمل کر کے جاب حاصل کر لیتے ہیں۔ ہمیں ہر روز نیا تجربہ کرنے کے بجائے جامع منصوبہ بندی کے تحت اپنی ورک فورس تیار کرنی چاہیے اور پاکستان اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے اس سے نکلنے میں یہ ورک فورس اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان میں صرف آٹھ سے نو فیصد لوگ ہی یونیورسٹی تک جا رہے ہیں، چین اور بھارت میں یونیورسٹی تک جانے والوں کی تعداد ہم سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے بڑے ممالک میں شامل ہے اور آنے والے برسوں میں وہ چین اور بھارت کے بعد آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ہو گا۔ اتنی بڑی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ابھی سے تیاری کرنا ہو گی۔ جب تک اعلیٰ تعلیم کو انڈسٹری کے ساتھ منسلک نہیں کیا جائے گا، پاکستان کو بحران سے نکالنا ممکن نہیں۔ ملک کے بچوں کو اس تعلیم کی طرف لانا ہو گا کہ وہ کالج یا یونیورسٹی سے نکلتے ہی نوکری حاصل کر سکیں یا اپنے کاروبار کو سنبھال سکیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنے ادارے کو یونیورسٹی تک لے کر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسوسی ایٹ ڈگری کو جس مقصد کے لیے شروع کیا گیا تھا وہ تو پورا نہیں ہوا اور اس کا محض نظام بدلا گیا ہے۔ اب ان سے کیا کہیں کہ اس حکومت کے دور میں بچوں کو تعلیم دلانا کس قدر مشکل ہو گیا ہے۔ عوام کتنی مشکل سے مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ کرتے ہے۔ کھانے والے نمک سے لے ادویات تک ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ یہ پہلی حکومت ہے جس نے بچوں کے دودھ سے لے کر ڈبل روٹی تک پر ٹیکس لگا دیا ہے۔ صرف ہوا بچی ہے جو بغیر ٹیکس کے انسان لے سکتا ہے۔ 400 ارب اکٹھا کرنے کے لیے ٹیکس لگا دیے گئے ہیں اور اتنے ہی رقم سے پنجاب میں صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا گیا ہے جس میں چند بیماریوں کا علاج اس صورت میں ہو گا جب وہ ہسپتال میں داخل ہوں۔ یہ چار سو ارب روپیہ چند ہسپتالوں اور انشورنس کمپنیوں کی جیب میں چلا جائے گا اور ان میں ایک ہسپتال شوکت خانم بھی ہے جہاں پر اس کارڈ کے ذریعے علاج ہو گا۔ اس بات کا بھی کوئی جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ جنوری میں پنجاب میں شروع ہونے والی سکیم کے لیے کیا انشورنس کمپنی کو پورے سال کی رقم کی ادائیگی کی گئی ہے یا صرف باقی چھ ماہ کی۔ اگر پورے سال کی ادائیگی ہوئی ہے تو انشورنس کمپنیوں کی چاندی ہو گئی۔ اتنی بڑی رقم سے سرکاری ہسپتالوں کے نظام کو بہتر کیا جا سکتا تھا اور وہاں پر عوام کو سہولیات فراہم کرنے کا بندوبست ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔

عمران خان کا فلاحی ریاست کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے اور تحریک انصاف کا ووٹر کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے۔ ہر چیز پر سترہ فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے اس سے مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آئے گا۔ پہلے یہ اعلان کیا جاتا تھا کہ ٹیکس بیس کو بڑھایا جا رہا ہے لیکن یہ سارے ان ڈائریکٹ ٹیکسز ہیں جن کا سارا بوجھ عوام کو اٹھانا ہے۔ ٹیکسیشن کے اس نظام میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ سب خاموش ہیں۔ ان حالات میں اپوزیشن شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دیا کرتی تھی لیکن وہ بھی فکسڈ میچ کھیل رہی ہے یا شاید یہ چاہتی ہے کہ حکومت ایک بار عوام کو اصل چہرہ دکھا دے تاکہ کوئی تحریک انصاف کا دوبارہ سے نام نہ لے۔

بہت دیر ہوئی لاہور کی سڑکوں پر یہ پوسٹر نظر نہیں آئے۔ مٹ جائے گی مخلوق خدا تو انصاف کرو گے۔ اس قدر مہنگائی میں حلال اور حرام کی تمیز میں فرق بہت کم رہ جائے گا کہ بھوک کا مارا ہوا اپنے پیٹ کی دوزخ کی آگ بجھانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اس حالات میں ملک میں انقلاب آنے کی توقع بہت کم ہے ہاں جرائم اور لوٹ مار کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ اعلیٰ تعلیم کے دروازے عوام پر بند ہوتے جائیں گے اور ثانوی تعلیم میں بچوں کا ڈراپ آؤٹ زیادہ ہو جائے گا کیونکہ بہت سے والدین کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول سے ہٹا کر کسی کام پر لگا دیں۔ بیروزگاری پر قابو پانے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی اور نہ کوئی ایسا منصوبہ موجود ہے جس سے حوصلہ ہو کہ اس مشکل دور کے بعد آسانی آنے والی ہے۔

مصنف کے بارے میں