چھاؤنیوں کے تیس ہزار سکولوں اور چالیس ہزار طلبہ کا کیا بنے گا؟

 چھاؤنیوں کے تیس ہزار سکولوں اور چالیس ہزار طلبہ کا کیا بنے گا؟

حکومتیں اکثر ایسے فیصلے کرتی رہتی ہیں جو کسی گہری سوچ کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ وقت گزرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس اقدام کے اچھے نتائج نہیں نکلے۔ لیکن نقصان ہو چکاہوتا ہے۔ اور اس کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ خاص طور پر جب اس طرح کے اقدام کا تعلق تعلیم جیسے شعبے سے ہو تو اس کے بڑے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ تو اب طے ہو چکا ہے کہ تعلیم ہماری سیاسی جماعتوں ، یا حکومتوں کی کوئی بڑی ترجیح نہیں رہی۔ دیکھنے میں ہر جماعت ، تعلیم کے بارے میں اپنے منشور میں بڑے خوبصورت اور دلکش دعوے کرتی ہے ۔ لیکن حکومت میں آجانے کے بعد اسے یہ دعوے یاد نہیں رہتے۔ اس کی ایک وجہ تو بہرحال یہ ہے کہ مالی وسائل کی کمی ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ ہمارے پاس جو وسائل ہیں ، انہیں ہم اس طرح تقسیم کرتے ہیں کہ تعلیم کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں۔ اس کے باوجود اس افسوسناک حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے حکمران تعلیم کو اپنی ترجیحات کی فہرست میں بہت نیچے رکھتے ہیں۔ وہ چاہیں تو اپنی شاہ خرچیوں میں کچھ کمی کرکے تعلیم کو زیادہ وسائل فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ "تعلیم"  ایک ایسی لیبارٹری بن چکی ہے جس میں آئے دن کسی نہ کسی طرح کے تجربات ہوتے رہتے ہیں۔ نصف صدی قبل، ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم بنے تو انہوں نے چھوٹی چھوٹی صنعتوں کیساتھ ساتھ تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بھی نیشنلائز کر دیا۔ لاکھوں ، کروڑوں کی سرمایہ کاری سے تعلیم کے میدان میں کام کرنے والے لوگ خالی ہاتھ رہ گئے۔ یہاں تک کہ ان کے تعلیمی اداروں کی عمارتیں بھی سرکاری قبضے میں چلی گئیں۔ اس حکومتی اقدام سے اساتذہ میں تو خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن تعلیم و تدریس کے عمل پر کتنے مثبت اثرات پڑے؟ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ برسوں پرائیویٹ سکولوں پر پابندی رہی۔ پھر یہ عمل شروع ہوا تو پھیلتا ہی چلا گیا۔ اسی طرح نصاب اور ذریعہ تدریس پر بھی مسلسل طرح طرح کے تجربات ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اب   "یکساں قومی نصاب"   کا نعرہ لگ رہا ہے، لیکن کچھ لوگ اسے بھی اونٹ قرار دے رہے ہیں جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ 

روزنامہ نئی بات کے ایک سینئر اور قابل احترام کالم نگار پروفیسر ساجد ملک صاحب نے ایک انتہائی اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے کہ ملک بھر کی 42 چھاؤنیوں (کنٹونمنٹس) میں چلنے والے ہزاروں پرائیویٹ مدارس کو بند کیا جا رہا ہے۔ اساتذہ اور طلبہ کی جبری بے دخلی کا عمل جاری ہے۔ عمارتوں کو سیل کیا جا رہا ہے۔ اس کا محرک کوئی تین سال پہلے سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ بتایا جاتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چھاؤنی کے رہائشی علاقوں میں ہر قسم کی کمرشل یعنی کاروباری سرگرمیاں بند کر دی جائیں۔ غالباً اس پر عمل درآمد کے لئے بھی دو یا تین سال کی مہلت دی گئی تھی۔ اس عرصے میں متعلقہ حکام نے کوئی سرگرمی نہ دکھائی۔ البتہ حتمی طور پر 31 دسمبر 2021 کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی جو ختم ہو چکی ہے۔ پرائیویٹ سکولوں  کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ و طالبات سراپا احتجاج ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی دلیل یہ ہے کہ اس معاملے کا تعلق کنٹونمنٹ حکام اور سپریم کورٹ سے ہے لہٰذا وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ ادھر کنٹونمنٹ حکام ساری ذمہ داری عدلیہ پر ڈال رہے ہیں جو کہ ہے۔ کوئی نہیں سوچ رہا کہ اس کھینچا تانی سے لاکھوں طلبہ و طالبات پر کیا گزر رہی ہے اور ان کے والدین کس کرب کا شکار ہیں۔

پاکستان میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے (بعض خامیوں کے باوجود) تعلیم کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کچھ عر صہ قبل سامنے آنے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ تقریباً سوا تین لاکھ سکولوں میں سے 38 فیصد ایسے ہیں جو غیر سرکاری یا نجی اہتمام میں چل رہے ہیں۔ ان اداروں میں زیر تعلیم تقریبا 5  کروڑ طلبہ و طالبات میں 42 فیصد تھے جن کا بوجھ پرائیویٹ اداروں نے اٹھا رکھا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس رفتار سے ہماری آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس رفتار سے سرکاری ادارے نہیں کھل رہے۔ آبادی میں اس اضافے کو سنبھالنے کے لئے پرائیویٹ ادارے ہی آگے آ رہے ہیں جن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ تعلیم ہمارے آئین کی رو سے حکومتوں کی ذمہ داری ہے لیکن اس ذمہ داری کا بہت زیادہ وزن پرائیویٹ اداروں نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ نرسری اور پرائمری سکولوں سے لے کر یونیورسٹی سطح تک یہ ادارے بہرحال ہمارا اثاثہ ہیں۔ 

آل پاکستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن، چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی قائم پرائیویٹ اداروں یا اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ہے۔ جس سے اساتذہ کی تقریباً ایک سو ذیلی تنظیمیں منسلک ہیں۔ فیڈریشن کے صدر جناب کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ ملک بھر کی چھاؤنیوں میں 30 ہزار کے لگ بھگ پرائیویٹ تعلیمی ادارے قائم ہیں جہاں چار لاکھ اساتذہ چالیس لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کو تعلیم دے رہے ہیں۔ صرف لاہور چھاؤنی میں 2600 تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں۔ کاشف مرزا صاحب کی دلیل یہ ہے کہ بہت سے سکول مالی مشکلات کے باعث کرونا وبا کے دوران بند ہو گئے۔ اب اگر ہزاروں کی تعداد میں باقی سکول بھی بند کر دئیے گئے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہی کہ لاتعداد بچے تعلیمی عمل سے خارج ہو جائیں گے۔

پرائیویٹ اداروں کی انتظامیہ / اساتذہ کی طرف سے ایک نظر ثانی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ء ہے۔ امید رکھنی چاہیے کہ عدالت عظمیٰ اس انتہائی اہم مسئلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایسا حکم جاری کرئے گی جو اساتذہ، والدین، طلبہ و طالبات اور پرائیویٹ اداروں کے منتظمین کی پریشانی دور کر سکے۔ یہ بات ہر گز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج کے کنٹونمنٹس، انگریز دور کی چھاؤنیاں نہیں ہیں جہاں صرف آ ر۔ اے۔ بازار، لال کرتیاں  ، فوجی ہسپتال اور فوجی ڈیری فارم ہوا کرتے تھے۔ آج کے کنٹونمنٹس بڑی بڑی شہری آبادیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان آبادیوں میں باقاعدہ بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں۔ سیاسی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے پلازے اور مارکٹیں بنی ہیں۔ یہ اب ہرگز مخصوص فوجی رہائش گاہیں نہیں۔ اگر ان سکولوں کو چھاؤنی بدر کر دیا گیا تو لاکھوں کی آبادیوں پر مشتمل محلوں، گلی کوچوں اور دیگر مقامات کے بچوں بچیوں کو تعلیم کی سہولت سے محروم کر دیا جائے گا غریب لوگ اپنے بچوں کو دور دراز کے سکولوں میں بھیجنے کے لئے ٹرانسپورٹ کے اضافی اخراجات کیسے برداشت کریں گے؟ کیا اچھی خاصی تعداد بچوں کو سکولوں سے اٹھانے پر مجبور نہ ہو جائے گی؟ کرونا پوری طرح تھما نہیں، اوپر سے ایک ایسا کام شروع کر دیا گیا ہے جس نے 42 چھاؤنیوں کے رہائشیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ہے کوئی سوچنے والا کہ 30 ہزار سکولوں اور چالیس لاکھ طلبہ و طالبات کا کیا بنے گا؟ 

مصنف کے بارے میں