ایران اورفرانسیسی کمپنی کے درمیان گیس فیلڈ کے لیے پانچ ارب ڈالر کا معاہدہ

ایران اورفرانسیسی کمپنی کے درمیان گیس فیلڈ کے لیے پانچ ارب ڈالر کا معاہدہ

تہران:فرانس کی کمپنی ٹوٹل نے خلیج میں گیس فیلڈ تعمیر کرنے کے لیے ایران کے ساتھ پانچ بلین ڈالر کے کنٹریکٹ پر دستخط کردیئے ،2016 میں ایران پر سے معاشی پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد یہ بیرونی دنیا کے ساتھ سب سے بڑا معاہدہ ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت تیل کے اہلکاروں نے کہاکہ جنوبی پارس میں گیس فیلڈ کی تعمیر کے بارے میں معاہدے پرپیر کو تہران میں دستخط کیے گئے ۔


اس منصوبے میں میں ٹوٹل کا حصہ پچاس اعشاریہ ایک فیصد ہوگا چین کی کمپنی سی این پی سی کا تیس فیصد جبکہ ایران کی کمپنی پیٹروپارس کا انیس اعشاریہ نو فیصد ہوگا۔پہلے تو ٹوٹل کا کچھ مہینے پہلے ہی اس معاہدے پر دستخط کرنے کا ارادہ تھا مگر پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ٹرمپ انتطامیہ کے فیصلے کا انتظار کرے کہ کہیں امریکہ ایک بار پھر تہران پر پابندیاں نہ عائد کردے۔سمندر میں واقع یہ گیس فیلڈ مشترکہ طور پر ایران اور قطر کی ہے اور اس پر پہلی بار کام 1990 میں کیا گیا تھا۔

2006 میں جب پہلی بار ایران پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے شک میں عالمی پابندیاں عائد کی گئیں تو اس وقت فرانسیسی کمپنی ٹوٹل ملک میں سرمایہ کاری کرنے والی سب سے بڑی کمپنی تھی۔پچھلے ماہ ٹوٹل کے سربراہ پیٹرک پوئےآنے نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ ایران میں ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایران تیل کی پیداوار کرنے والے ادارے اوپیک میں تیسرا بڑا ملک ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔