اسحاق ڈار پہلی بار پاناما جے آئی ٹی کے رو برو پیش

اسحاق ڈار پہلی بار پاناما جے آئی ٹی کے رو برو پیش

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی پاناما جے آئی ٹی کے رو برو پیش ہو گئے ہیں جہاں وہ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ جے آئی ٹی نے پہلی بار وزیر خزانہ کو تفتیش کے لیے طلب کیا تھا۔ جوڈیشل اکیڈمی میں ان کی آمد پر سیکیوررٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔


اس دوران مسلم لیگ ن کے کارکن بھی موجود تھے جو ان کے حق کے نعرے لگاتے رہے۔ پیشی سے قبل وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات میں ملک کی سیاسی صورت حال سمیت حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق مشاورت کی گئی۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورہ حکومت 2000ء میں حدیبیہ پیپر ملز کی ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے ایک اعترافی بیان جمع کرایا تھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کے لئے کی گئی منی لانڈرنگ میں ملوث رہے۔ جے آئی ٹی نے اسحاق ڈار کے اس  اعترافی بیان کو بھی پاناما تحقیقات میں شامل کر رکھا ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف کے کزن طارق شفیع سے دوبارہ پیشی پر تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا دوبارہ نہیں بلایا گیا اور تحقیقاتی ٹیم کے تمام سوالات کے جوابات دے دیئے ہیں۔ گلف اسٹیل کے بنانے اور اسکے لیے جانے والے فنڈز سے متعلق بھی جے آئی ٹی کو بتایا ہے۔

یاد رہے کہ جے آئی ٹی اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حسن نواز، حسین نواز، وزیراعظم کے کزن طارق شفیع اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کو طلب کر چکی ہے۔ وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز بھی 4 جولائی کو چھٹی بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں