قطر بحران: بڑی تعمیراتی کمپنیوں نے ملک چھوڑنے کے ہنگامی منصوبے شروع کر دیئے

قطر بحران: بڑی تعمیراتی کمپنیوں نے ملک چھوڑنے کے ہنگامی منصوبے شروع کر دیئے

دوحہ: قطر میں 2022 کے فٹ بال عالمی کپ کے لیے میدان تیار کرنے والی مغربی کمپنیوں نے دوحہ اور خلیجی ممالک کے درمیان اختلاف حل نہ ہونے کی صورت میں قطر سے کوچ کرنے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ اس بات کا انکشاف برطانوی اخبار "ٹیلی گراف" کی رپورٹ میں کیا گیا۔


باخبر ذرائع نے اخبار کو بتایا ہے کہ بہت سی عالمی تعمیراتی کمپنیاں اس وقت قطر کو چھوڑنے یا وہاں موجود اپنے ملازمین کی تعداد کم کرنے کے پلان بنا رہی ہیں۔ یہ اقدام قطر پر ممکنہ طور پر عائد کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں کی روشنی میں کیا جا رہا ہے۔ ان پابندیوں کا اثر قطر میں جاری تعمیراتی منصوبوں پر بھی پڑے گا۔ دوحہ نے سال 2022 میں فٹبال عالمی کپ سے پہلے مکمل کیے جانے والے ان منصوبوں کے لیے 160 ارب پاؤنڈ کی خطیر رقم مختص کی ہوئی ہے۔ ان منصوبوں میں عالمی سطح کے 8 فٹبال اسٹیڈیموں کی تعمیر ، دوحہ میں مٹرو ٹرین نیٹ ورک کا قیام اور ہوٹلوں کے 60 ہزار نئے کمروں کی تیاری شامل ہے۔

کھیل کے میدانوں کی تعمیر میں امریکی اور برطانوی سِول انجینئرنگ فرمز اور تعمیراتی کمپنیاں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان میںFoster + Partners ، Zaha Hadid Architects ، Arup ،CH2M ، Aecom ، Interserve ، Carillion ، Turner & Townsend ، Gleeds اور RLB شامل ہیں۔

تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک کمپنی کے ذریعے نے موضوع کی حساسیت کے سبب نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ قطر پر نئی ممکنہ پابندیاں ان کمپنیوں کو قطر چھوڑنے پر مجبور کر دیں گی۔ ذریعے کے مطابق اس حوالے سے ایک ٹیم ہنگامی پلان پر کام کر رہی ہے اور مزید پابندیوں کی صورت میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں کو دوبارہ سے اپنے کھاتوں کا جائزہ لے کر قطر میں ٹھہرنے یا کوچ کر جانے کا فیصلہ کرنا ہو گا۔

دوسری جانب عالمی کپ 2022 کے تعمیراتی منصوبوں میں شریک ایک کمپنی میں کام کرنے والے ذریعے نے چند ماہ میں قطر اور خلیجی ممالک کا بحران حل ہو جانے کو خارج از امکان قرار دیا۔ اگرچہ مذکورہ ذریعے کی کمپنی دوحہ چھوڑنے کے ہنگامی پلان پر کام نہیں کر رہی ہے تاہم اس ذریعے کا کہنا ہے کہ "میں نے دوحہ اور ابوظبی میں کام کرنے والی مسابقتی کمپنیوں سے رابطہ کیا ہے اور یہ کمپنیاں کسی ایک آپشن کو اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گی"۔

یاد رہے کہ دوحہ پر خلیجی ممالک کی پابندیاں قطر میں تعمیراتی منصوبوں پر واقعتا اثرا انداز ہونا شروع ہو گئیں ہیں۔ پابندیوں سے قبل تعمیرات کا 40% مواد اور سامان سعودی عرب کے ساتھ سرحد کے ذریعے قطر پہنچ رہا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق قطر کو عالمی کپ کے لیے کھیل کے میدانوں کی تعمیر کے واسطے رواں اور آئندہ سال تقریبا 36 ہزار غیر ملکی ورکر درکار ہوں گے.

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں.