مریم نواز کو بلانے کی بجائے سوالنامہ بھیجا جائے، اسحاق ڈار کا مطالبہ

مریم نواز کو بلانے کی بجائے سوالنامہ بھیجا جائے، اسحاق ڈار کا مطالبہ

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی پاناما جے آئی ٹی کے رو برو پیش ہوئے اور ان سے تقریبا ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ پیشی کے بعد واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا جو سوالات جے آئی ٹی نے پوچھے ان کے جوابات دے دیئے اور مجھے دو مرتبہ پہلے نہیں بلایا گیا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف کا پاناما پیپرز میں نام نہیں اور 23 سال سے یہ ہی تماشا لگا ہوا ہے جبکہ چند ریفرنسز پرویز مشرف کے زمانے میں جھوٹ کی بنیاد پر بنائے گئے تھے اب یہ تماشا ختم ہونا چاہیئے۔


اسحاق ڈار نے مزید کہا افتخار چودھری کیخلاف مشرف نے جو کیس بنایا ہے وہ ججز نے پھینک دیا اور ان ججز نے کہا تھا کہ افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس جلد بازی میں بنایا گیا۔ جب بھی ملک میں استحکام شروع ہوتا ہے یہ تماشا شروع ہو جاتا ہے اور اگلے 12 سال میں پاکستان دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔ اب تک کوئی بھی ایک پیسے کی کرپشن سامنے نہیں لا سکا صرف نواز شریف کے خلاف سیاسی جماعتیں سازشیں کر رہی ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا جن کے نام پاناما میں ہیں وہ دوسری جماعتوں میں ہیں اور کیا نیازی سروسز میں عمران خان کی بہنوں کے دستخط نہیں؟۔ مائیں بہنیں مشترکہ ہوتی ہیں اور مریم نواز صرف وزیراعظم نہیں قوم کی بھی بیٹی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مریم نواز کو طلب کرنے کی بجائے انہیں سوالنامہ بھیجا جائے اور سپریم کورٹ نوٹس لے جبکہ جے آئی ٹی بھی اس پر نظرثانی کرے۔ مریم نواز شریف کا قصور کیا ہے اور مجھے بُرا لگ رہا ہے کہ مریم نواز کو یہاں بلایا جا رہا ہے جبکہ اگر کل کو عمران خان کی بہنوں کو طلب کیا جاتا ہے تو پھر بھی مجھے افسوس ہو گا۔

انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا خان صاحب نے تو اپنی شادی کے بارے میں بھی جھوٹ بولا تھا اور اب وہ کس منہ سے نواز شریف کے خلاف 62 اور 63 کا کیس کرتے ہیں۔ عمران خان صاحب وکیل کے ذریعے پیغام پہنچاتے ہیں کیس میں آہستہ چلیں۔ وزیر خزانہ نے کہا الزام لگایا کہ عمران خان نے عطیات کی رقم سے جوا کھیلا۔ اب خان صاحب جھوٹ تمھارے منہ پر آئیں گے اور صرف سچ باقی رہے گا۔

جوڈیشل اکیڈمی میں ان کی آمد پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ اس دوران مسلم لیگ ن کے کارکن بھی موجود تھے جو ان کے حق کے نعرے لگاتے رہے۔ پیشی سے قبل اسحاق ڈار نے  وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی اور  ملک کی سیاسی صورت حال سمیت حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق مشاورت کی گئی۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورہ حکومت 2000ء میں حدیبیہ پیپر ملز کی ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے ایک اعترافی بیان جمع کرایا تھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کے لئے کی گئی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ یاد رہے کہ جے آئی ٹی نے اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کو بھی پاناما تحقیقات میں شامل کر رکھا ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف کے کزن طارق شفیع سے دوبارہ پیشی پر تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا دوبارہ نہیں بلایا گیا اور تحقیقاتی ٹیم کے تمام سوالات کے جوابات دے دیئے ہیں۔ گلف اسٹیل کے بنانے اور اسکے لیے جانے والے فنڈز سے متعلق بھی جے آئی ٹی کو بتایا ہے۔

یاد رہے کہ جے آئی ٹی اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حسن نواز، حسین نواز، وزیراعظم کے کزن طارق شفیع اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کو طلب کر چکی ہے۔ وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز بھی 4 جولائی کو چھٹی بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں