ایاز امیر پر حملہ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

ایاز امیر پر حملہ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

ایاز امیر اس ملک کے چند بہترین کالم نگاروں میں سے ایک ہیں۔ گزشتہ روز ہی ان پر حملہ ہوا ہے اور یہ حملہ کس نے کیا ہے اس پر ہر ایک کی اپنی رائے ہے۔ سوشل میڈیا کی غالب اکثریت کا گمان ہے کہ عمران خان کی موجودگی میں انہوں نے فوج کے کردار کو ہدف تنقید بنایا تھا جس کی سزا دی گئی ہے تاہم یہ بھی کہا گیا کہ ایاز امیر نے عمران خان کی موجودگی میں ان پر شدید تنقید کی۔ ڈھکے چھپے اور واضح الفاظ میں انہوں نے عمران خان کی اتنی کلاس لی جتنا ایک وضع دار شخص لے سکتا تھا۔ ایک ایسے مجمع میں جہاں نا بالغ عمران خان کو مہاتما اور فوج کو ہدف تنقید بنا رہے تھے وہاں ایاز امیر کی تنقید عمران خان کو مجبوری میں برداشت کرنا پڑی تاہم انہوں نے سارا مزا خراب کر دیا۔ کہاں ننھے انقلابیوں کے فوج سے ٹکرانے کے بیانات اور کہاں ایک خودساختہ دانشور کے اعلانات کہ مستقبل کے وزیراعظم عمران خان ہی ہوں گے وہاں ایاز امیر کی یہ باتیں کہ ہمیں جس عمران خان کا پتہ تھا وہ تو کوئی اور تھا۔ ننھے انقلابی اور خودساختہ دانشور کی مجبوری تھی کہ انہوں نے عمران خان کے دور میں خوب پیسہ بنایا۔ ایاز امیر کی اس طرح کی کوئی مجبوری نہیں تھی۔ وہ الگ ڈھب کا بندہ ہے۔ اپنے آپ میں مگن رہنے والا۔ جہاں تک فوج کے سیاسی کردار پر ان کی تنقید کا معاملہ ہے وہ ایک عرصہ سے یہ تنقید کرتے رہے ہیں۔ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے۔ نیا ان لوگوں کے لیے جنہوں نے پہلی بار ان کی گفتگو کو سنا ہے۔

ایاز امیر کون ہے؟ چکوال کے ایک امیر گھرانے کا چشم و چراغ جو فوج میں لیفٹین بھرتی ہو گیا تھا لیکن کتابوں سے اپنے رشتے کو نہیں ٹوٹنے دیا۔ جنگ میں بھی بندوق سے زیادہ کتاب سے عشق کرنے والا۔ اس زمانے میں چونکہ بی اے پاس تھا تو فوج سے فارن سروس میں چلا گیا کہ اسے علم تھا کہ فوج میں اس کی دال نہیں گلنے والی اور یہ بھی کہ ہر وقت یس سر کہنے کی عادت نہیں تھی۔ انقلابی تھا اس لیے اپنے والد کی سفارش کی بدولت ماسکو چلا گیا۔ بھٹو مخالف تحریک چلی تو جذباتی رو میں بہہ گیا اور ماسکو سے ہی استعفی ارسال کر دیا اور وہاں سے سیدھا لندن چلا گیا۔بھٹو اقتدار سے رخصت ہوا تو پاکستان کا ر خ کیا۔ اسلام آباد میں انگریزی اخبار دی مسلم کو جوائین کر لیا۔ الذوالفقار نے طیارہ اغوا کیا تو ایجنسیوں نے انہیں بھی اٹھا لیا۔ انگریزی پڑھنے والے قاری انہیں بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ڈان میں باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔ اردو کے قارئین سے انہیں مرحوم ضیا شاہد نے متعارف کروایا۔ جس دن ان کا کالم ڈان اخبار میں شائع ہوتا اسی دن ریحان قیوم کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسے ترجمہ کرتے۔ میں ان دنوں خبریں کا ایڈیٹوریل انچارج تھا۔ ریحان قیوم بھی انتہائی شستہ انداز میں ان کے انگریزی کالم کا ترجمہ کرتے اور اگلے دن خبریں کے ایڈیٹوریل صفحہ پر ان کا کالم بطور مہمان کالم کے شائع ہوتا۔ ان دنوں خبریں میں ایک سے بڑھ کر ایک کالم شائع ہوتا تھا۔ انگریزی میں جو بھی اچھا کالم شائع ہوتا اسے ترجمہ کر کے مہمان کالم کے طور پر شائع کیا جاتا۔ لاہور کے ایک نوجوان نے انگریزی کالم نگاروں سے باقاعدہ معاہدہ کر لیا کہ وہ ان کے کالم اردو میں ترجمہ کرے گا اور یوں ایاز امیر سمیت بہت سے انگریزی لکھنے والوں نے ان خدمات سے فائدہ اٹھایا اور اردو اخبارات سے معاہدے کر کے اپنے کالم اردو میں بھی شائع کروانے کا اہتمام کر لیا۔ 

ایاز امیر مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے ایم پی اے اور ایم این اے منتخب ہوئے تاہم یہاں ان کی دال گلنے والی نہیں تھی کہ دربار میں حاضری ان کے لیے مشکل تھی اور دوسرا یہ زعم کہ انہیں سب معلوم ہے۔ ن لیگ کے ساتھ نہیں چل سکے اس لیے سیاست کو خیرباد کہہ دیا۔ شائد یہی دکھ ہے کہ آج تک مسلم لیگ ن کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں اور اس پر کھل کر تنقید کرتے ہیں زرداری صاحب سے بنتی نہیں ہے اس لیے کہاں جائیں مجبوری میں عمران خان کو نجات دہندہ سمجھ لیتے ہیں اور جب ضمیر پر بوجھ بڑھ جائے تو پھر ان پر بھی شدید تنقید کرنے سے نہیں چوکتے۔ وہ اس محاورے کے قائل ہیں کہ دوست جاتا ہے تو جائے مگر فقرہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

ایاز امیر نے اس تقریب میں جو سوالات اٹھائے تھے وہ برمحل تھے کہ خان نے اپنے شوق کی خاطر آرمی چیف کو توسیع دینے کے لیے قانون سازی کروا دی کہ جنرل باجوہ کو ایک اور ٹرم دی جا سکے۔ ایاز امیر نے سچ کہا ہے کہ اب ہر آنے والے جنرل سات برس اس عہدے پر رہنے کا خیال لے کر آئے گا کہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ ڈی ایچ اے کی توسیع کی خواہش پر پہلے بھی بہت تنقید ہوتی رہی ہے تو کیا صرف اس وجہ سے انہیں نامعلوم افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اگر ایسی بات تھی تو ننھے انقلابیوں نے تو ان سے بھی بڑی باتیں کی تھیں اور ان پر ہاتھ ڈالنا بھی قدرے آسان تھا۔ 

میں یہ نہیں کہتا کہ ایاز امیر پر عمران خان نے حملہ کروایا ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی سرپھرا شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کی کوشش کر رہا ہو۔ سیاسی جماعتوں اور قائدین پر تنقید ہوتی ہے اور کھل کر ہوتی ہے مگر ان میں بہرحال اتنا ظرف ہوتا کہ وہ اسے برداشت کریں۔ پی ٹی آئی کے دوست کہتے ہیں کہ عمران خان تنقید کو کھلے دل سے سنتا ہے۔ وزیرداخلہ اور آئی جی پنجاب نے اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ان کرداروں تک پہنچا جائے جو سیاسی کھیل سے فایدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آخر میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا ذکر ہو جائے جس میں اس نے دونوں فریقین کو راضی کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار سے باہر نکل کر مصالحتی عدالت کا کردار ادا کیا ہے۔ اس پر بہت سے لوگ داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں لیکن حقیقت میں سپریم کورٹ نے اپنا آئینی کردار نبھانے سے پہلو تہی کی ہے۔ سپریم کورٹ پارلیمانی روایات اور نظائر کو نہیں دیکھ رہی اور آئین کی من مانی تشریح کرنے پر مصر ہے۔ دو چیزیں انتہائی قابل اعتراض ہیں کہ اگر عدالت عالیہ نے حمزہ شہبازشریف کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا تھا تو پھر تمام معاملات کو پہلے والی پوزیشن پر کیوں نہیں لایا گیا۔ اس کے بعد تو حمزہ شہبازشریف کی بجائے عثمان بزدار کو قائم مقام وزیراعلی مقرر ہونا چاہیے تھا۔ معاملہ سپریم کورٹ کے پاس گیا تو اس نے دو شرائط عائد کر دیں کہ تحریک انصاف دو دن میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کو قبول کر لے تو کسی دوسرے شخص کو نگران وزیراعلیٰ بنا دیتے ہیں اور اگر انتخاب 17 جولائی کے بعد کروانا ہے تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ ہوں گے۔ انتہائی معذرت کے ساتھ یہ عرض کرنا ہے کہ آئین اور قانون میں اس کی کوئی گنجائش موجود ہے تو وہ بتا دیں۔ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے جج ہیں، یہاں تو کوئی ان سے حساب نہیں لے سکتا لیکن اگلے جہان میں انہیں اپنے اعمال کا حساب ضرور دینا ہے۔ ماضی میں بہت سے ایسے فیصلے موجود ہیں کہ جن کے بارے میں آج برملا کہا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ آئین اور قانون سے زیادہ مفادات کے تابع کیے گئے۔ آپ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے تاریخ میں جگہ بنائی ہے۔ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ ہم ماضی کے ججوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے نہ آپ پر اثرانداز ہونے کی جرات کر سکتے ہیں۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ کہیں آپ کسی کی محبت یا نفرت میں غلط فیصلے تو نہیں کر رہے۔ دوسری بات یہ عرض کرنا ہے کہ جتنی تیزی سے انصاف ملک کی اشرافیہ کو مل رہا ہے کیا ملک کے عام آدمی کو بھی نظام انصاف یہ سہولت فراہم کررہا ہے۔ ورلڈ جسٹس رول آف لاءانڈیکس 2021 کے مطابق پاکستان 139 ممالک کی فہرست میں 130 ویں نمبر پر ہے۔ اس خطے میں قانون کی حکمرانی کے انڈیکس میں صرف افغانستان ہم سے نیچے ہے۔ نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت ہم سے آگے ہیں۔ یوں پاکستان کو قانون کی حکمرانی میں دوسرا بدترین ملک قرار دیا گیا۔ کریمنل جسٹس میں پاکستان کا نمبر 108 واں ہے۔ انڈیکس میں اتنی بری کارکردگی میں حکومت اور نظام انصاف دونوں ذمہ دار ہیں کہ ہم نے اپنی ترجیحات میں اسے کہاں رکھا ہوا ہے۔ یہ وہ ملک ہے کہ جہاں بے گناہ کو مہینوں بغیر کسی جرم کے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور ضمانت نہیں ملتی اور کئی افراد کو یہ سہولت حاصل ہے کہ ان کے لیے انصاف کے دروازے صبح شام کھلے رہتے ہیں۔ زنجیر انصاف لگی ہے تو یہ نظام بھی بنایا جائے کہ لوگ اس زنجیر تک رسائی بھی حاصل کر سکیں۔

 عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی

یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟

سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی

حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

(علامہ اقبالؒ)

مصنف کے بارے میں